اعلیٰ عدلیہ میں بڑے پیمانے پر تقرریاں اور مستقل حیثیت کی توثیق
اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے لاہور، سندھ، بلوچستان، اسلام آباد اور پشاور کی ہائی کورٹس میں ایڈیشنل ججز کی تقرریوں کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے کچھ ایڈیشنل ججز کو مستقل جج بنانے کی بھی توثیق کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلے 20 اور 21 جولائی کو ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاسوں کی سفارشات کی روشنی میں کیے گئے، جن میں 19 ایڈیشنل ججز کی تقرری، پانچ کو مستقل کرنے اور ایک کی مدت میں توسیع کی سفارش کی گئی تھی۔
سپریم کورٹ ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں ہم آہنگی
صدر زرداری نے ایک اور اہم فیصلے میں سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کو وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے مساوی کرنے کی منظوری دے دی۔ اس اقدام کا مقصد اعلیٰ ترین عدلیہ میں یکساں معیار قائم کرنا ہے۔ مزید برآں، ہائی کورٹ کے ججز کی چھٹیوں، پنشن اور دیگر مراعات سے متعلق 1997 کے آرڈر میں ترامیم کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
ہارون اختر وزیراعظم کے مشیر مقرر
ایک علیحدہ پیش رفت میں، ہارون اختر کو وزیراعظم کا مشیر برائے صنعت و پیداوار مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ تقرری معاشی امور میں حکومت کی ٹیم کو مزید مستحکم کرے گی۔
دوسری جانب، اسلام آباد ہائی کورٹ نے نئے ججز کی تقرری سے متعلق سمری کی منظوری میں تاخیر پر صدر اور وزیراعظم کو ان کے سیکرٹریز کے ذریعے نوٹس جاری کرتے ہوئے کل تک جواب طلب کر لیا۔ یہ نوٹس درخواست گزار لقمان ظفر کی جانب سے دائر درخواست پر جاری کیے گئے،س میں صدر کی جانب سے سمری منظور نہ کرنے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے وزارت قانون کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے منگل تک جواب مانگ لیا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کے دوران وفاقی حکومت پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا حکومت اس معاملے کو حل کرنے میں کوئی دلچسپی رکھتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ عدالت کو توقع تھی کہ وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جسٹس طاہر نے استفسار کیا کہ سمری اس وقت کس مرحلے پر زیر التوا ہے اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تقرری و توثیق کے معاملات میں کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جوڈیشل کمیشن نے سندھ اور پشاور ہائی کورٹس کے ججز کی توثیق کی منظوری دے دی تھی، لیکن وہ معاملات بھی التوا کا شکار ہیں۔
