اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حوثی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اس واقعے میں تین پاکستانی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ایک زخمی ہوا۔ یہ حملہ تنزانیہ کے پرچم والے جہاز ‘تہامہ’ پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کے عملے میں ہلاکتیں اور زخمی ہوئے۔ حملے میں ایک انڈونیشیائی شہری بھی مارا گیا۔
جاں بحق پاکستانیوں کے لواحقین سے اظہار تعزیتسماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دستیاب معلومات کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں تین پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا ہے۔ انہوں نے جاں بحق پاکستانیوں کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
غیر جنگی تجارتی جہازوں پر حملوں کی پاکستان کی مذمت
اسحاق ڈار نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان حوثیوں کی جانب سے غیر جنگی تجارتی جہازوں پر حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس طرح کے حملے معصوم جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور بحیرہ احمر میں آزادانہ جہاز رانی، بحری سلامتی اور تجارتی شپنگ کی حفاظت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
سعودی حکام اور یمنی حکومت سے رابطے کی ہدایت
وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان اس واقعے کی مزید تفصیلات اور اس سے جڑے حالات جاننے کے لیے متعلقہ سعودی حکام اور یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے۔
ریاض میں پاکستانی سفارتخانے کو فوری اقدامات کی ہدایت
اسحاق ڈار نے ریاض میں پاکستانی سفارتخانے کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ کاری کرے اور جاں بحق پاکستانی شہریوں کی میتیں نکالنے اور وطن واپس لانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھائے۔ انہوں نے سفارتخانے کو یہ بھی ہدایت کی کہ زخمی پاکستانی شہری کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔
صورتحال پر گہری نظر، حکام سے قریبی رابطہ جاری
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گا۔ گزشتہ روز یمنی حکومت اور کوسٹ گارڈ ذرائع نے بتایا تھا کہ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں باب المندب کے قریب ایک کارگو جہاز کو نشانہ بنایا، جس میں جہاز کے ڈیک کو نشانہ بنایا گیا اور عملے کے تین ارکان ہلاک ہو گئے۔
