مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک اور بڑے غیر قانونی آبادکاری منصوبے پر کام شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت تقریباً 650 مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی برادری فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کو امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے رہی ہے۔
’نوفی راحیل‘ منصوبہ عوامی جائزے کے لیے پیش
دفترِ گورنر القدس کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق، اسرائیلی علاقائی منصوبہ بندی اور تعمیراتی کمیٹی نے ’نوفی راحیل‘ نامی اس رہائشی بستی کے منصوبے کو باضابطہ طور پر عوامی جائزے کے لیے پیش کر دیا ہے۔ یہ مرحلہ عام طور پر تعمیراتی کام شروع ہونے سے قبل حتمی منظوریوں کی راہ ہموار کرتا ہے۔
منصوبے کے تحت تعمیر ہونے والے سینکڑوں مکانات اسرائیل کی اس پالیسی کا تسلسل ہیں جسے بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے۔ القدس گورنر دفتر نے اس اقدام کو فلسطینی زمینوں پر قبضے کو مستقل شکل دینے کی ایک اور کوشش قرار دیا ہے۔
غیر قانونی چوکیوں کی تاریخ اور موجودہ صورتحال
یہ پیش رفت اسرائیلی پولیس کی مقبوضہ مغربی کنارے میں عمونا جیسی غیر قانونی چوکیوں پر موجودگی کے پس منظر میں ہوئی ہے۔ 3 جنوری 2019ء کی ایک فائل تصویر میں اسرائیلی پولیس کو عمونا چوکی کے اوپر تعینات دکھایا گیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل عرصہ دراز سے متنازع علاقوں میں اپنی موجودگی مضبوط کر رہا ہے۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے منصوبے دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں اور مغربی کنارے کے جغرافیائی تسلسل کو توڑ رہے ہیں۔
علاقائی ردعمل اور عالمی تناظر
اسرائیلی آبادکاریوں میں توسیع کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور غزہ کی جنگ کے بعد سے حالات مزید نازک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ اور متعدد عالمی طاقتیں بارہا اسرائیل سے بستیوں کی تعمیر روکنے کا مطالبہ کر چکی ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
مقامی مبصرین کا خیال ہے کہ ’نوفی راحیل‘ کی تعمیر سے نہ صرف فلسطینیوں کی مزید زمینوں پر قبضہ ہو گا بلکہ یہ مشرقی بیت المقدس کو مغربی کنارے سے کاٹنے کی اسرائیلی حکمت عملی کا بھی حصہ ہے۔
- منصوبے کا نام: نوفی راحیل
- مکانات کی تعداد:ریباً 650
- موجودہ حیثیت: عوامی جائزے کے لیے پیش
- علاقہ: مقبوضہ مغربی کنارہ
