ملک بھر میں پانی کی قلت، حکومت نےنگامی اجلاس طلب کر لیا
پیرس: فرانس کی وزیر برائ ماحولیاتی تبدیلی، مونیک باربوٹ نے بدھ کے روز ایک ہنگامی اجلاس کے ملک میں خشک سالی کی سنگین صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے انہوں نے بتایا کہ تقریباً پورا ملک اس وقت خشک سالی کی لپیٹ میں، جس کے نتیجے میں 40,000 افراد کو پینے کے صاف پانی کی فراہمیطل کرنا پڑی ہے۔
یہ انتباہ وزارت میں منعقدہ ا بحرانی اجلاس کے آغاز پر جاری کیا گیا، جس میں ہائیڈرولوجیکل اینی سیپیشن اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی (کیش) اور تمام علاقائی پریفیکرز نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد خشک سالی کی موجودہ صورتحال، اس کے اثر کا جائزہ لینا اور مستقبل میں ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے پیش اقدامات اور علاقوں کی لچک بڑھانے کے تجربات کا تبادلہ کرناھا۔
وزیر نے بتایا کہ اگست کے آغاز میں ملک کا 65صد حصہ ایسی خشک سالی کا سامنا کر رہا تھا جو اعداد و شمار مطابق ہر 25 سال میں صرف ایک بار دیکھنے کو ملتی ہے۔ انہوں نےید کہا کہ اب تمام علاقے پانی کے استعمال پر پابندیوں کی زد میں ہی۔
پانی کی قلت میں مسلسل اضافہ، 50 ڈیپارمنٹس متاثر
یہ صورت حال گزشتہ ماہ کے مقابلے میں زیادہویشناک ہے۔ 27 جولائی کو ہونے والی گزشتہ میٹنگ میں حکوم نے بتایا تھا کہ 80 کمیونز میں 30,000 سے زائد افراد پانی کی بند سے متاثر ہیں۔ بدھ کے روز اس تعداد پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے بھا کر 40,000 کر دیا گیا۔
وزیر باربوٹ نے زور دے کہا، “ہماری پہلی ترجیح یقینی طور پر پینے کے پانی کی فرامی ہے، جو پہلے ہی کئی علاقوں میں دباؤ کا شکار ہے، خاص طور پرج 50 فرانسیسی ڈیپارٹمنٹس میں۔” انہوں نے یہ بھ یاد دلایا کہ گزشتہ ہفتے 550,000 سے زائد باشندوں کی پانی کی فرامی کشیدگی کا شکار تھی، جبکہ تقریباً 30 لاکھ افراد کو چکس رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
گرمی کی لہرا معاشی نقصان 10 سے 15 ارب یورو تک پہنچنے کا تخمین
مونیک باربوٹ نے معاشی اثرات پر بھی روشنی ڈالتےوئے کہا کہ 2026 کی موسم گرما کی گرمی کی لہروں کے بالواسہ اور بلاواسطہ اخراجات 10 سے 15 ارب یورو کے درمیان ہونےا تخمینہ ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ یہ اعداد و شمار ادار برائے قومی شماریات (اِنسی) کے عارضی ہیں۔
وسری جانب، خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے اِنسی نےہا کہ یہ تخمینہ ان کی جانب سے نہیں لگایا گیا اور اس وقت ان پاس 2026 کی گرمی کی لہر کے براہ راست اور بالواسطہ اخراجاتا کوئی حتمی تخمینہ موجود نہیں ہے۔
شدید متاثرہاقے اور مستقبل کے چیلنجز
یہ بحران فرانس کے مختلف حصوں شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، تقریب 70 فیصد فرانسیسی علاقہ پانی کے استعمال پر پابندیوں کے اقدامات سے متاث ہے۔ زراعت پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جیسےہ پوئے کی مشہور سبز مسور کی دال کی فصل تاریخ کی بدترین صورت حال کا شکاروئی ہے۔
یہ خشک سالی صرف فرانس تک محدود نہیں ہے پڑوسی ملک جرمنی میں بھی دریائے رائن کی سطح خطرناک حد تک گر گئی، جس سے جہاز رانی تقریباً ناممکن ہو کر رہ گئی ہے۔ فرانسی حکومت اب صورتحال سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی حکمت عملیوں پر کام کرہی ہے تاکہ آنے والے سالوں میں اس طرح کے بحرانوں کے اثرات کو کم کیا سکے۔
