FOCUSWORD: Deux-Sevres house fire investigation
فرانس کے علاقے دو-سیور میں ایک گھر میں لگنے والی ہولناک آگ نے ایک خاندان کو نگل لیا۔ حکام نے تین افراد کی ہلاکت کے بعد غیر ارادی قتلِ عام کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
منگل 11 اگست کی سہ پہر لہوموا نامی قصبے میں آگ لگنے کی اطلاع ملی۔ ابتدائی طور پر یہ آگ ایک کھیت سے شروع ہوئی تھی لیکن شدید گرمی اور تیز ہوا کے باعث یہ تیزی سے پھیلتی ہوئی قریبی رہائشی مکان تک جا پہنچی۔
آگ پر قابو پانے کے لیے 55 فائر فائٹرز روانہ کیے گئے
فائر بریگیڈ کے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر آگ بجھانے کی بھرپور کوشش کی۔ تاہم جب تک وہ آگ پر قابو پاتے، گھر مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو چکا تھا۔
حکام کے مطابق آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ گھر کے اندر موجود افراد کو باہر نکلنے کا موقع ہی نہیں مل سکا۔
میزاں اور بیٹے کی لاشیں برآمد
آگ بجھانے کے بعد ریسکیو ٹیموں نے گھر کے اندر سے تین مکمل طور پر جلی ہوئی لاشیں برآمد کیں۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ لاشیں ایک چالیس سالہ جوڑے اور ان کے بالغ بیٹے کی ہیں۔
لہوموا کے میئر ژاں پیو نے بتایا کہ یہ خاندان صرف تین سال قبل اس علاقے میں آباد ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شدید گرمی کی وجہ سے متاثرہ افراد نے ممکنہ طور پر کھڑکیوں کے شٹر بند کر رکھے تھے جس کی وجہ سے انہیں آگ کے قریب آنے کا اندازہ نہیں ہو سکا۔
شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے جائیں گے
پراسیکیوٹر دفتر کے مطابق لاشیں اس قدر جلی ہوئی تھیں کہ ان کی فوری شناخت ممکن نہیں تھی۔ لاشوں کو پوئتیئرز کے فرانزک ادارے منتقل کر دیا گیا ہے جہاں جمعرات کو پوسٹ مارٹم کے ساتھ ساتھ ڈی این اے ٹیسٹ بھی کیے جائیں گے۔
پراسیکیوٹر نینا بلانشون نے ایک بیان میں کہا کہ فائر بریگیڈ کو منگل کی سہ پہر 4 بج کر 2 منٹ پر آگ لگنے کی اطلاع ملی تھی۔ جب تک امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں، آگ ایک گودام اور رہائشی مکان کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔
شدید گرمی کی وارننگ جاری تھی
قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس وقت یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا، اس وقت پورے دو-سیور علاقے میں شدید گرمی کی وارننگ جاری تھی۔ محکمہ موسمیات نے جنگلات میں آگ لگنے کے خطرے سے بھی خبردار کیا ہوا تھا۔
حکام نے اس واقعے کے بعد شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گرمی کے موسم میں کسی بھی قسم کی آگ سے متعلق غیر معمولی سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔
تحقیقات جاری
پراسیکیوٹر دفتر نے اس واقعے کو غیر ارادی قتلِ عام قرار دیتے ہوئے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ تفتیش کار اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آگ لگنے کی بنیادی وجہ کیا تھی اور کیا اس واقعے میں کسی کی غفلت یا لاپرواہی شامل تھی۔
یہ واقعہ فرانس میں حالیہ برسوں میں پیش آنے والے بدترین گھریلو آتشزدگی کے واقعات میں سے ایک ہے۔ مقامی انتظامیہ نے متاثرہ خاندان کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
