پیرس میں ایک عدالت نے ایک بیس سالہ خاتون کے سابق ساتھی کو عصمت دری، ہراسانی اور ایسے حالات پیدا کرنے کے جرم میں آٹھ سال قید کی سزا سنائی ہے جس نے متاثرہ خاتون کی صحت کو بری طرح متاثر کیا۔ یہ کیس اس بات کا ثبوت ہے کہ گھریلو تشدد کا شکار کم عمر افراد بھی ہو سکتے ہیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی سماجی طبقے سے ہو۔
ایک خواب سے جہنم تک کا سفر
متاثرہ خاتون، جس کا نام تبدیل کر کے لیہ رکھا گیا ہے، نے عدالت کے تین روزہ مقدمے کے دوران شدید ذہنی دباؤ اور خوف کا سامنا کیا۔ مقدمے کے بعد اپنی وکیل کے دفتر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس نے کہا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہے کہ انصاف ملا۔
لیہ نے بتایا کہ اس نے ان خواتین کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے جو گھریلو تشدد کا نشانہ بن کر قتل ہو گئیں، اور جنہوں نے بار بار پولیس میں شکایات درج کروائیں مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ لیہ نے صرف ایک بار شکایت درج کروائی اور وہ زندہ بچ گئی۔
ایک سال میں محبت کی تبدیلی
لیہ کے سابق ساتھی نے ایک سال سے بھی کم عرصے میں ان کے رومانوی تعلق کو جہنم میں بدل دیا۔ اس پر جسمانی تشدد، نفسیاتی ہراسانی اور بار بار عصمت دری کے الزامات عائد کیے گئے۔ دو ستمبر کو پیرس کی عدالت نے اسے ان سنگین جرائم میں آٹھ سال قید کی سزا سنائی۔
یہ مقدمہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ گھریلو تشدد کسی بھی عمر، کسی بھی پس منظر اور کسی بھی سماجی طبقے میں رونما ہو سکتا ہے۔ متاثرہ خاتون کی ہمت اور عدالت کا فیصلہ ان لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے جو خاموشی سے اس طرح کے تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔
