کراچی: پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح کی 78ویں برسی آج (جمعہ) عقیدت اور احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے، جس میں ملک بھر میں ان کی یاد کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
قائد کے مزار پر قرآن خوانی اور ملک گیر دعائیں
قائداعظم کے مزار پر قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا ہے، جبکہ ملک بھر کی مساجد میں ان کی روح کے ایصال ثواب کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔ حکومتی عہدیداروں، سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد قائد کے مزار پر پہنچ کر عظیم رہنما کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔
تعلیمی اداروں اور تنظیموں کے خصوصی پروگرام
متعدد سرکاری و نجی ادارے اور تعلیمی درسگاہیں قائداعظم کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے تقریبات کا انعقاد کریں گی۔ ان تقریبات میں اس عظیم رہنما کی جدوجہد کو یاد کیا جائے گا جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک علیحدہ وطن کے حصول کے لیے متحد کیا۔
ذرائع ابلاغ قائداعظم کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے خصوصی پروگرام نشر کریں گے، جن میں ان کی تقاریر کے اقتباسات بھی شامل کیے جائیں گے۔
قائد کی زندگی سے سبق: استقامت، نظم و ضبط اور خود اعتمادی
قائداعظم کی زندگی استقامت، نظم و ضبط اور اپنے مقصد پر مکمل یقین کا ایک پائیدار سبق ہے۔ یہی اوصاف تھے جنہوں نے ہر چیلنج، بحران اور موقع سے نمٹنے کے لیے ایک عظیم وژن فراہم کیا۔
سیاسی، سماجی، ثقافتی اور معاشی چیلنجز سے لے کر موسمیاتی ہنگامی حالات تک، قائداعظم کی زندگی تمام مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک روشن مینار اور قطب نما کی حیثیت رکھتی ہے۔
مضبوط ادارے اور آئینی تسلسل پر قائد کی تاکید
قائداعظم نے سکھایا تھا کہ پائیدار طاقت ان اداروں سے حاصل ہوتی ہے جنہیں عوامی اعتماد، آئینی تسلسل اور قانون کے سامنے برابری حاصل ہو۔ ان کی خواہش تھی کہ اختلافات اور پولرائزیشن کو آئینی اداروں، جمہوری عمل، مکالمے اور قانون کی حکمرانی کے ذریعے حل کیا جائے۔
ان کی 78ویں برسی کے موقع پر ملک بھر میں یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ قائد کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہی پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مؤثر حل ممکن ہے۔
