واشنگٹن: سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دو مرتبہ ٹیلی فونک رابطہ کرتے ہوئے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کی درخواست کی، تاہم امریکی صدر نے یہ درخواست مسترد کر دی۔ یہ انکشاف امریکی میڈیا رپورٹ میں دو امریکی حکام کے حوالے سے کیا گیا ہے۔
امریکی حکام کا مؤقف
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں انتظامیہ حوثیوں کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتی۔ وائٹ ہاؤس اور واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے نے معمول کے اوقات کار کے بعد اس حوالے سے تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔
یمن میں بڑھتی کشیدگی پر امریکی تشویش
رپورٹ کے مطابق امریکہ یمن میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا شکار ہے اور وہ سعودی عرب کی حمایت میں اضافہ کر رہا ہے، لیکن اس دوران براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
سینٹ کام کمانڈر کی سعودی عرب آمد
امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر جمعرات کے روز سعودی عرب پہنچے، جہاں وہ ہنگامی رابطہ کاری کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات کریں گے۔ اس دورے کو یمن کی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران اور آبنائے ہرمز پر امریکی توجہ
امریکی فوجی اور سول حکام نے حالیہ ہفتوں میں اپنے سعودی ہم منصبوں کو آگاہ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت کے مطابق امریکی افواج کی توجہ ایران اور آبنائے ہرمز کی حفاظت پر مرکوز رہے گی، جبکہ ایک نئے محاذ کے آغاز سے گریز کیا جائے گا۔
بحیرہ احمر میں بحری تحفظ کے لیے بین الاقوامی اتحاد کی کوشش
اس سے قبل جولائی میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ سعودی عرب بحیرہ احمر میں حوثی حملوں سے بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ یمن اور اس کے گرد و نواح میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
تنازعے کا پس منظر
اس کشیدگی کا آغاز جولائی کے اوائل میں اس وقت ہوا جب حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی افواج نے سعودی جنگی طیاروں کا مقابلہ کیا جو صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک ایرانی شہری طیارے کو لینڈنگ سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
- سعودی ولی عہد نے ٹرمپ سے دو مرتبہ رابطہ کیا اور حوثیوں پر حملوں کی درخواست کی
- امریکی انتظامیہ نے براہ راست فوجی کارروائی سے انکار کر دیا
- امریکی افواج کی توجہ ایران اور آبنائے ہرمز کی حفاظت پر مرکوز رہے گی
- سینٹ کام کمانڈر ہنگامی رابطہ کاری کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے
- سعودی عرب بحیرہ احمر میں بین الاقوامی بحری اتحاد کی تشکیل کی کوشش میں مصروف
