پیرس: تعلیمی نظام کے جائزے کی بین الاقوامی رپورٹ پیزا (Pisa) نے فرانس میں طلبہ کی تعلیمی سطح میں نمایاں کمی کو اجاگر کیا ہے، جس کے بعد والدین اور اسکرینوں کے استعمال کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین کی جانب سے مسلسل موبائل فون کے استعمال سے بچوں کی ذہنی اور سماجی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔
والدین کی توجہ اور اسکرینوں کا بڑھتا استعمال
فرانسیسی وزیر تعلیم ایڈورڈ گیفرے نے حالیہ بیان میں والدین کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ والدین اکثر بچوں سے یہ پوچھتے ہیں کہ “آج کیا نمبر ملے؟” لیکن یہ نہیں پوچھتے کہ “آج کیا سیکھا؟”۔ ان کے مطابق، یہ رویہ تعلیمی ترقی میں رکاوٹ ہے، اور اس میں والدین کے موبائل فون کا استعمال اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
یو ایف سی کیو چوزر کے سروے کے مطابق، فرانسیسی شہری اپنے فارغ وقت کا تقریباً ایک تہائی حصہ اسکرین اسکرول کرنے میں گزارتے ہیں، جس سے والدین کی موجودگی اور بچوں کے ساتھ معیاری وقت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔
ماہرین کی رائے: “ٹیکنو فیرنس” کا اثر
اطلاعات و مواصلاتی علوم کی ماہر این کورڈیئر کے مطابق، بچے اور نوجوان واضح طور پر اپنے والدین کے ساتھ آف لائن وقت کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بچے اکثر ناراضی کا اظہار کرتے ہیں کہ والدین انہیں نظر انداز کرتے ہیں یا ان سے کافی بات چیت نہیں کرتے۔
ماہر نفسیات برینڈن میک ڈینیئل کے نظریے “ٹیکنو فیرنس” کے حوالے سے کورڈیئر نے کہا کہ والدین کی بار بار مختصر غیر موجودگی بچوں کے ساتھ تعلقات کو خراب کرتی ہے۔ جب یہ عمل کثرت سے ہو، تو بچوں میں یہ احساس پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ اہم نہیں ہیں۔
سماجی مہارتوں پر اثرات
کورڈیئر کے مطابق، والدین اور بچوں کے درمیان آنکھوں کا رابطہ اور زبان کا تبادلہ ابتدائی عمر سے ہی انتہائی اہم ہے۔ اگر والدین کا موبائل استعمال بے قابو ہو، تو بچوں کی سماجی مہارتوں کے سیکھنے میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
- بچوں میں خود اعتمادی کی کمی
- والدین سے جذباتی دوری
- زبان اور مواصلاتی صلاحیتوں میں کمی
- توجہ اور ارتکاز کی صلاحیت متاثر
توازن کی ضرورت
این کورڈیئر نے واضح کیا کہ ہر وہ والدین جو اسکرین استعمال کرتا ہے، برا والدین نہیں ہوتا۔ انہوں کے مطابق، یہ “خوراک” کا معاملہ ہے۔ 2026 میں ہر والدین کے پاس کنیکٹڈ ڈیوائس ہونا لازمی ہے، لیکن اسے بچوں کے ساتھ بانٹنا چاہیے یا پھر اس کے استعمال کو کسی اور وقت تک محدود رکھنا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ زیادہ تر مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ خاندانی ڈھانچے میں یہ تبدیلی مثبت انداز میں بھی ہو سکتی ہے، بشرطیکہ والدین کی ذہانت اور مؤثر ثالثی موجود ہو۔ کنیکٹڈ ڈیوائسز معلومات اور تبادلے کا بڑا ذریعہ بھی ہیں، اس لیے انہیں صحیح جگہ پر رکھنا ضروری ہے۔
یاد رہے کہ پیزا رپورٹ ہر تین سال بعد تعلیمی نظاموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتی ہے، اور اس بار فرانس کی کارکردگی میں کمی نے اسکرینوں اور والدین کے کردار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
