امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر زور دیا ہے کہ وہ روسی ڈیزل ایندھن کے ٹھکانوں پر فضائی حملے بند کریں، کیونکہ ان کے بقول اس سے عالمی سطح پر ڈیزل کی قلت پیدا ہو رہی ہے اور عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
ٹرمپ کا آئرلینڈ میں بیان
اتوار کے روز آئرلینڈ کے سرکاری دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ “مسٹر زیلنسکی کو ایک کام کرنا ہے۔ انہیں روس میں ڈیزل ایندھن کو نشانہ بنانا بند کرنا ہوگا۔ وہ دوسرے اہداف پر حملے کر سکتے ہیں، لیکن ڈیزل ایندھن پر نہیں، کیونکہ اس سے ڈیزل کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ “یہ مشرق وسطیٰ کی وجہ سے نہیں ہو رہا۔ یہ روس اور یوکرین کی صورتحال کی وجہ سے ہو رہا ہے۔”
ان کے اس بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری تنازعے، جس میں بنیادی طور پر امریکہ، ایران اور اسرائیل شامل ہیں، نے عالمی توانائی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کر دیا ہے۔ اس بحران نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کے راستے ٹریفک کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
عالمی توانائی مارکیٹ پر اثرات
مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائی کی وجہ سے طویل المدتی سپلائی میں خلل کے خدشات کے باعث اس ہفتے عالمی تیل کی قیمتیں 108 ڈالر تک پہنچ گئیں۔ امریکہ میں ڈیزل کی قیمتوں نے ریکارڈ بلند سطح کو چھو لیا اور جمعہ کے روز پہلی بار فی گیلن 6 ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔
میرین انٹیلیجنس فرم کپلر کے مطابق، روس دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ڈیزل برآمد کنندہ ہے، جس کے بعد امریکہ کا نمبر آتا ہے۔
یوکرین کی جانب سے روسی توانائی کے ڈھانچے پر حملے
یوکرین کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں کا ایک سلسلہ روس کے ایندھن کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، جس میں بڑے پروسیسنگ پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا اور روس کی ریفائننگ صلاحیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
- یوکرینی ڈرون حملوں نے روس کے متعدد بڑے تیل صاف کرنے والے کارخانوں کو نشانہ بنایا
- روس کی ریفائننگ صلاحیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے
- عالمی ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے
- امریکہ میں ڈیزل کی قیمت پہلی بار 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی
پولش سرحد کے قریب روسی حملہ
دریں اثنا، روس اور یوکرین دونوں اپنی فضائی جنگ کو مزید تیز کر رہے ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق، اتوار کی رات روسی ڈرون حملے نے یوکرین کے شمال مغربی قصبے یاہودین میں پولینڈ کی سرحد کے قریب ایک گیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا۔
گیس اسٹیشنوں پر حملے اتنے عام ہو گئے ہیں کہ یوکرین کے ایک نیٹ ورک نے دارالحکومت کیف میں اپنی سہولیات کے گرد جالی دار پنجرے نصب کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ حملوں کے دوران اثرات کے دائرے کو کم کیا جا سکے۔
تازہ ترین حملے پر یوکرین نے فوری ردعمل ظاہر کیا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے یوکرین کے وزیر خارجہ اینڈری سیبیہا نے ایکس پر لکھا: “یوکرین-پولینڈ سرحدی گزرگاہ یاہودین پر روس کے وحشیانہ حملے ہماری سرحدوں پر حملوں کا محض تسلسل نہیں ہیں۔ یہ پوتن کی دہشت گردی ہے جو براہ راست یورپی یونین اور نیٹو کے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔”
سرحدی گزرگاہ کو مختصر طور پر بند کر دیا گیا تھا لیکن اتوار کو مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے تک یہ دوبارہ معمول کے مطابق کام کر رہی تھی۔
یاہودین یوکرین-پولینڈ کی متعدد سرحدی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جس کے ذریعے یوکرین کو مغربی فوجی اور انسانی امداد کی نمایاں مقدار پہنچائی جاتی ہے۔
عالمی تناظر میں صورتحال
ٹرمپ کے اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب عالمی توانائی کی منڈیوں میں عدم استحکام عروج پر ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ تنازعے اور روس-یوکرین جنگ کے باہمی اثرات نے عالمی معیشت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، روسی ڈیزل پر یوکرینی حملے عالمی سپلائی چینز پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں، جس سے ترقی پذیر ممالک سمیت متعدد خطوں میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
