پیرس: فرانسیسی حکومت نے پیر کے روز 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے قانون کا نیا مسودہ برسلز میں یورپی کمیشن کو پیش کر دیا ہے۔ صدر ایمانوئل میکرون نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس اعلان کے ساتھ کہا کہ “یہ تحفظ تمام یورپی بچوں کے لیے بھی معمول بننا چاہیے” اور یقین دلایا کہ وہ “کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔”
آئینی کونسل کی رکاوٹ کے بعد نیا مسودہ
یہ پیش رفت فرانس کی آئینی کونسل کے اس فیصلے کے ایک ماہ بعد سامنے آئی ہے جس میں عدالت نے پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کے مسودے کو نوجوانوں کی اظہارِ رائے اور رابطے کی آزادی پر “غیر متناسب مداخلت” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ تاہم عدالت نے بچوں کے بہترین مفادات کے تحفظ کی آئینی ذمہ داری کو بھی تسلیم کیا تھا۔
صدر میکرون نے کہا کہ “سخت تکنیکی محنت کے بعد حکومت آج کونسل کے فیصلے کے ایک ماہ بعد کمیشن کو نئی تحریریں نوٹیفائی کر رہی ہے۔” انہوں نے زور دیا کہ “ہم اسے مکمل کریں گے۔” یہ نوٹیفکیشن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم مرحلہ ہے کہ آئندہ قانون سازی یورپی قوانین کے مطابق ہو۔
یورپی یونین کو خط اور عالمی سطح پر پابندی کی کوشش
صدر میکرون نے یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لین کے ساتھ اپنی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یورپ کی جانب سے اس پابندی کو یونین کی سطح پر ہم آہنگ کرنے اور پلیٹ فارمز کی خصوصیات کو کنٹرول کرنے کے لیے تیز اور سخت اقدامات کی اپنی عزم کا اظہار کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے یورپی کمیشن کی صدر کو لکھے گئے خط میں میکرون نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی کے لیے ایک “یورپی متن” کا مطالبہ کیا تھا تاکہ “یونین کے تمام بچوں کا تحفظ” یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے قومی سطح پر “اس موسم خزاں میں راستہ تلاش کرنے” کا عزم بھی دہرایا تھا۔
نئے مسودے میں کیا تجاویز شامل ہیں؟
ایک ایگزیکٹو ذرائع کے مطابق، آئینی اور یورپی رکاوٹوں سے بچنے کے لیے حکومت نے تقریباً دس “نقصان دہ” اور “لت آور” خصوصیات کی فہرست تجویز کی ہے، جن میں ویڈیوز کا خودکار آغاز، رات کے وقت اطلاعات کا سیلاب، اور نامعلوم اکاؤنٹس سے رابطہ شامل ہیں۔
- ویڈیوز کا خودکار طور پر چلنا
- رات بھر اطلاعات موصول ہونا
- نامعلوم اکاؤنٹس سے رابطے کی اجازت
- 13 سے 15 سال کے نوجوانوں کے لیے قانونی نمائندوں کی منظوری سے استثنا
ذرائع کے مطابق اس سے پابندی میں شامل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ان کے نام لیے بغیر نشانہ بنایا جا سکے گا، کیونکہ یورپی قواعد کے تحت مخصوص پلیٹ فارمز کا نام لینا جائز نہیں۔ مسودے میں 13 سے 15 سال کے نوجوانوں کے لیے ان کے قانونی نمائندوں کی فیصلے کی بنیاد پر استثنا کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
یورپی سطح پر بڑھتی ہوئی حمایت
ایک یورپی ذرائع نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ارسلا وان ڈیر لین 15 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی کی تجویز پر غور کر رہی ہیں، جسے 13 سے 15 سال کے بچوں کے لیے والدین کے فیصلے پر اٹھایا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ان کی تجویز فرانس کے نئے مسودے کے قریب دکھائی دیتی ہے۔
وان ڈیر لین نے جمعرات کو ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ “ہمیں سوشل میڈیا کی لت ڈالنے والی خصوصیات کو قبول کرنے کی ضرورت نہیں” اور یہ کہ “بچوں کو مزید انتہائی مواد کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔”
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب فرانس میں اس معاملے پر عوامی بحث جاری ہے۔ ایک طرف نوجوانوں کی اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ کی آوازیں بلند ہیں تو دوسری طرف بچوں کو آن لائن نقصان دہ مواد اور لت سے بچانے کے لیے سخت قوانین کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
