وینس فلم فیسٹیول میں تمغہء اعزاز جیتنے والی دستاویزی فلم “نازہ” کے ہدایت کاروں کو اپنے ہی ملک میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اسرائیل کے وزیر ثقافت نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ وہ ان ہدایت کاروں کی شہریت منسوخ کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں گے، اور ان پر “ریاست سے غداری” کا الزام عائد کیا۔
شہریت چھیننے کا اعلان
وزیر ثقافت میکِی زوہر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیا کہ وہ ہدایت کار یوول ابراہام اور ریچل زور کی اسرائیلی شہریت واپس لینے کے لیے فوری طور پر کام کریں گے۔ ان دونوں کی دستاویزی فلم نے ہفتہ کے روز وینس میں خصوصی ایوارڈ حاصل کیا تھا۔
زوہر نے فلم سازوں پر الزام لگایا کہ وہ “دنیا بھر کے یہود دشمنوں کی تالیاں بٹورنے کے لیے اپنے وطن کو نقصان پہنچانا” چاہتے ہیں، اور کہا کہ یہ رویہ “ریاست کے خلاف غداری” کے زمرے میں آتا ہے۔
دیگر وزراء کا ردعمل
اتوار کی شام دیگر اسرائیلی وزراء نے بھی فلم کے ہدایت کاروں پر تنقید کی۔ یہ دونوں تفتیشی صحافی اس سے قبل بھی ایک آسکر یافتہ دستاویزی فلم “نو آور لینڈ” پر مل کر کام کر چکے ہیں، جو مقبوضہ مغربی کنارے میں حکام اور آباد کاروں کے تشدد کے بارے میں تھی۔
قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے ایکس پر لکھا: “تم تمام اسرائیلی عوام کے لیے شرم اور باعثِ ندامت ہو۔ یہاں سے چلے جاؤ!” انہوں نے مزید کہا: “مجھے یقین ہے کہ تمہارے دوست، یعنی غزہ میں ہمارے دشمن حماس، تمہیں کھلے بازوؤں سے خوش آمدید کہیں گے۔”
شہریت منسوخی کا قانونی پس منظر
اسرائیل میں شہریت منسوخ کرنا قانونی طور پر ممکن ہے، اگرچہ یہ عمل شاذ و نادر ہی اپنایا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ نے 2022 میں ریاست کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ ایسے افراد کی شہریت چھین سکتی ہے جنہوں نے “وفاداری” میں کمی کا مظاہرہ کیا ہو، مثلاً جاسوسی یا غداری کے جرائم کے ذریعے۔
2023 میں اس قانون کو مزید وسعت دی گئی تاکہ “دہشت گردی” کے جرائم میں سزا یافتہ افراد کو بھی اس دائرے میں لایا جا سکے۔ عملی طور پر اس عمل کے لیے وزیر داخلہ کی درخواست، وزیر انصاف کی منظوری اور ججوں کی توثیق ضروری ہے۔
فلم کا مواد اور فوج کا ردعمل
دستاویزی فلم “نازہ” اسرائیلی فوج اور انٹیلیجنس سروسز کے 24 ارکان کے گمنام بیانات پر مبنی ہے، جن میں انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی افواج غزہ میں حماس کے خلاف جنگ کے دوران کس طرح متعدد شہریوں کو ہلاک کر رہی ہیں۔
80 منٹ پر مشتمل اس فلم میں انٹرویو دینے والوں نے بتایا کہ کس طرح کئی ٹیکنالوجیکل نظاموں، بالخصوص مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے، اسرائیلی فوج نے موبائل فونز کے ذریعے حماس کے مشتبہ ارکان اور ان کے اہل خانہ کا پتہ لگایا اور پھر ان کے گھروں پر اندھا دھند حملے کیے۔
فلم کے مطابق “نازہ” اسرائیلی فوج کے اندر استعمال ہونے والا مخفف ہے جو کسی حملے میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی متوقع تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔ انٹرویو دینے والوں میں سے ایک نے بتایا کہ فوجیوں کے پاس ایک ایسا آلہ موجود ہے جس سے وہ غزہ کی ہر رہائش گاہ کے بارے میں جان سکتے ہیں کہ وہاں کتنے افراد موجود ہیں اور بمباری کی صورت میں کتنے متاثر ہوں گے۔
وینس میں فلم کی نمائش کے بعد جہاں اسے 25 منٹ تک کھڑے ہو کر سراہا گیا، اسرائیلی فوج نے دفاع کرتے ہوئے ان الزامات کو “مکمل طور پر” مسترد کر دیا کہ وہ غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں کو ہلاک کر رہی ہے۔
جنگ کے اعداد و شمار
7 اکتوبر 2023 کو اسرائیلی سرزمین پر حماس کے مہلک حملوں کے جواب میں شروع کی گئی اسرائیل کی غزہ جنگ میں اب تک 73,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، یہ اعداد و شمار حماس کے زیرِ کنٹرول اس علاقے کی وزارت صحت نے جاری کیے ہیں، جنہیں اقوام متحدہ بھی قابلِ اعتماد قرار دیتی ہے۔
