کھٹمنڈو: ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے تباہی کے مقام کے قریب پہنچ رہے ہیں کیونکہ گلیشیئرز ایک دہائی قبل کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے پانی کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق، اس صدی کے وسط تک خطے میں “پیک واٹر” یعنی پانی کی بلند ترین سطح کے مرحلے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اگست کے آخر میں نیپال اور تبت کی سرحد پر واقع ایک ہمالیائی گلیشیئر کے گرنے کے بعد وادیوں میں مسلسل لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلے آئے۔ نیپال اور چین کے تبت علاقے میں کم از کم 1,300 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 5,300 سے زائد لاپتہ ہیں۔
گلیشیئرز کی پسپائی اور خطرناک جھیلیں
تحقیق کے مطابق، گلیشیئرز کے پیچھے ہٹنے سے غیر مستحکم برفانی جھیلیں پیچھے رہ جاتی ہیں، جو ڈھیلی چٹانوں اور برف کے سوا کسی مضبوط ڈھانچے سے قابو میں نہیں ہوتیں۔ یہ جھیلیں ایسی وادیوں کے اوپر واقع ہیں جہاں لاکھوں افراد آباد ہیں۔
یہ مطالعہ پائیداری سے متعلق مشاورتی ادارے سسٹمک (Systemiq) نے انٹیگریٹڈ ماؤنٹین انیشی ایٹو، انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ اور انڈیا کے جی بی پنت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہمالین انوائرنمنٹ کے اشتراک سے تیار کیا۔
نگرانی کا نظام ناکافی
تحقیق کے مطابق، حالیہ عشروں میں ہمالیائی گلیشیئرز کے حجم میں کمی کی رفتار تیز ہوئی ہے، جبکہ ہندوکش-ہمالیہ کے وسیع پہاڑی نظام میں موجود تقریباً 40,000 گلیشیئرز میں سے فی الحال صرف 21 گلیشیئرز کی زمینی سطح پر نگرانی کی جا رہی ہے۔ یہ پہاڑی نظام افغانستان سے میانمار تک آٹھ ممالک پر پھیلا ہوا ہے۔
- بھارت میں تقریباً 200 برفانی جھیلوں کو زیادہ خطرے والا قرار دیا گیا ہے۔
- 56 جھیلوں کو “انتہائی زیادہ خطرے” کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔
- ان جھیلوں کے باعث نیچے کی جانب لاکھوں افراد خطرے سے دوچار ہیں۔
پانی کی سلامتی اور معیشت پر اثرات
ماہرین کے مطابق، جیسے جیسے خطہ “پیک واٹر” کے قریب پہنچ رہا ہے یعنی وہ موقع جب دریاؤں کا بہاؤ بڑھنا بند ہو کر کم ہونے لگے گا، اس کے پانی کی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
ہمالیہ بھارت کی مجموعی گھریلو پیداوار کے 20 فیصد سے زیادہ کا بنیاد فراہم کرتا ہے، اور یہ خطہ ملک کے قومی معاشی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ ہے جس پر کروڑوں افراد کا انحصار ہے۔
اگرچہ ہمالیائی خطہ بھارت کے تقریباً 18 فیصد رقبے پر مشتمل ہے، لیکن یہ ملک کی قدرتی آفات کے تقریباً 35 فیصد واقعات کا سبب بنتا ہے۔
