اسلام آباد: پاکستان نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش اور سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے مسلسل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
مکہ مکرمہ پر حملے کی کوشش ’انتہائی قابل مذمت‘ عمل
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش ایک ’انتہائی قابل مذمت اور گہری تشویشناک‘ عمل ہے جس نے دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، امن اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، اور سعودی شہری علاقوں اور تنصیبات پر حوثیوں کے حملوں کی بھی شدید مذمت کرتا ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان مشرق وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے کے تنازعات کے پرامن حل اور دیرپا امن کے لیے سفارت کاری اور پرامن مکالمے کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
بھارتی بحری جہاز کی جارحانہ چال، احتجاج درج
پاک بھارت تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ 15 ستمبر کو ایک بھارتی بحری جہاز نے پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون (EEZ) کے اندر پاک بحریہ کے جہاز کے قریب جارحانہ چال چلی۔
انہوں نے اس واقعے کو بین الاقوامی قانون اور دوطرفہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
ان کے مطابق واقعے کے بعد بھارت کے چارج دافئیر کو بدھ کی رات دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور پاکستان کا احتجاج ان کے سامنے رکھا گیا، جبکہ نئی دہلی میں پاکستان کے چارج دافئیر جمعرات کو بھارتی وزارت خارجہ میں باضابطہ احتجاج درج کرائیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے
ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کی کہ وزیراعظم شہباز شریف اگلے ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی حصے میں پاکستان کے وفد کی قیادت کریں گے۔
اجلاس کا سرکاری موضوع ’اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام: اقوام متحدہ جو سب کے لیے نتائج دے‘ ہے، جبکہ جنرل اسمبلی کی بحث 22 سے 26 ستمبر تک ہوگی اور آخری نشست 28 ستمبر کو ہوگی۔
ترجمان کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق دار، وفاقی وزراء اور سینئر حکام بھی ہوں گے۔
- وزیراعظم اپنے خطاب میں پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، انسداد دہشت گردی، اسلامو فوبیا، عالمی اقتصادی چیلنجز، اقوام متحدہ میں اصلاحات اور گلوبل ساؤتھ کے مسائل سمیت پاکستان کی ترجیحات بیان کریں گے۔
- وزیراعظم بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) اور فلسطین کی صورتحال کی طرف بھی عالمی توجہ مبذول کرائیں گے۔
- دورے کے دوران وزیراعظم اعلیٰ سطحی تقریبات میں شرکت کریں گے اور عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے تاکہ کثیرالجہتی، اقوام متحدہ کے چارٹر، علاقائی امن اور بین الاقوامی تعاون کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا جا سکے۔
