اقوام متحدہ: پاکستان نے سلامتی کونسل کو واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ افغانستان سے جنم لینے والے دہشت گردانہ خطرات کے خلاف وہ بین الاقوامی قانون کی حدود میں رہتے ہوئے، ضرورت پڑنے پر اپنے دفاع میں کارروائی کرے گا۔
بدھ کے روز افغانستان سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اسلام آباد مسلسل دہشت گردانہ خطرے کے سامنے خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا۔
انہوں نے کہا، “پاکستان اس دہشت گردانہ یلغار کے سامنے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا نہیں رہ سکتا۔” ان کا کہنا تھا کہ ملک اپنے شہریوں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے جب ضرورت پڑے گی، جواب دے گا۔
تین سال میں 4,700 سے زائد پاکستانی جاں بحق
پاکستانی مندوب نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران افغانستان سے منسلک دہشت گردی کے واقعات میں 4,700 سے زائد پاکستانی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کابل کی حکام پر الزام عائد کیا کہ وہ افغان سرزمین سے سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے خلاف “ٹھوس اور قابل تصدیق” اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ افغانستان ایک بار پھر متعدد عسکریت پسند تنظیموں کی پناہ گاہ بن گیا ہے، جن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی اور اس کی مجید بریگیڈ، اسلامک اسٹیٹ خراسان اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ سمیت ان سے وابستہ گروہ شامل ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیرونی عناصر افغانستان سے پاکستان اور دیگر ہمسایہ ریاستوں کے خلاف کام کرنے والے پراکسی گروہوں کی مدد کر رہے ہیں۔
گوتیرس کی رپورٹ میں خدشات کا اظہار
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں سرگرم عمل ہیں۔ رپورٹ میں خواتین اور لڑکیوں پر پابندیوں، غیر شمولیتی طرز حکمرانی، معاشی مشکلات، کمزور عوامی خدمات اور بڑے پیمانے پر ہجرت اور واپسی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے طالبان کی پالیسیوں پر تحفظات کے باوجود سفارتی رابطوں، انسانی امداد اور علاقائی تعاون کے ذریعے افغانستان کی حمایت جاری رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کو انسانی امداد کی سہولت فراہم کر کے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کی ہیں، اور اقوام متحدہ کی رپورٹ کے تحت زیر جائزہ مدت میں کم از کم 687 انسانی امدادی ٹرک پاکستان سے افغانستان میں داخل ہوئے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ پانچ سال قبل طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں، وہ بین الاقوامی برادری میں بتدریج مایوسی میں بدل گئی ہیں۔
دہشت گردی افغانستان کے چیلنجز کا مرکز
عاصم افتخار احمد نے دہشت گردی کو افغانستان کے مسائل کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ طالبان اور عسکریت پسند تنظیموں کے درمیان روابط نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنایا ہے۔ انہوں نے غیر ملکی افواج کے چھوڑے گئے ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور غیر قانونی اسلحے کی اسمگلنگ میں اضافے پر بھی خبردار کیا۔
امریکہ کا طالبان پر سخت موقف
اجلاس کے دوران امریکہ نے بھی طالبان کے خلاف تنقیدی موقف اپنایا۔ امریکی سفیر مائیک والٹز نے افغان حکام کی جانب سے امریکی شہریوں کی حراست کی مذمت کرتے ہوئے طالبان پر الزام لگایا کہ وہ انہیں بطور دباؤ کے ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ ان کی رہائی کا مطالبہ کرے۔
والٹز نے من مانی گرفتاریوں، تشدد، بدسلوکی اور ماورائے عدالت قتل کے ساتھ ساتھ خواتین اور لڑکیوں پر طالبان کی پابندیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے چھٹی جماعت سے آگے لڑکیوں کی تعلیم پر جاری پابندی اور اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والی افغان خواتین پر عائد پابندیوں کی طرف بھی اشارہ کیا۔
امریکی مندوب نے سوال اٹھایا کہ کیا طالبان کے ساتھ مسلسل بین الاقوامی رابطہ، ٹھوس اقدام کے بغیر کوئی بامعنی تبدیلی لا سکتا ہے۔
