امریکی خلائی ادارے ناسا کی خلائی گاڑی نے چاند کی سطح پر ایک نیا اور بہت بڑا گڑھا دریافت کیا ہے، جسے حالیہ تاریخ میں نظامِ شمسی میں بننے والا سب سے بڑا تصادمی گڑھا قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دریافت نہ صرف نایاب ہے بلکہ اتفاقیہ بھی ہے، جس نے سائنسی حلقوں میں خصوصی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔
دریافت کی تفصیلات
ناسا کے Lunar Reconnaissance Orbiter Camera کے ڈیٹا پر کام کرنے والے امریکی محقق رابرٹ ویگنر نے اس گڑھے کو تقریباً اتفاقی طور پر دریافت کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی ان کی نظر اس پر پڑی، انہوں نے اپنا تمام کام روک کر اس کی تحقیق پر توجہ مرکوز کر دی۔ اس گڑھے کا قطر 222 میٹر ہے اور اسے معروف ماہرِ ارضیات میک گیچن کے نام پر “میک گیچن” کا نام دیا گیا ہے۔
ناسا کے مطابق، یہ گڑھا 2024 کے موسمِ بہار میں کسی دومکیت یا سیارچے کے چاند کی سطح سے ٹکرانے کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ خلائی گاڑی کی تصاویر میں یہ ایک چمکدار دھبے کی شکل میں نظر آتا ہے جس کے گرد ایک تاریک ہالہ موجود ہے۔ سائنسی جریدے Science Advances میں 17 ستمبر کو شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، یہ نظامِ شمسی میں اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا حالیہ تصادمی گڑھا ہے۔
چاند پر تصادم کیوں زیادہ خطرناک ہے؟
زمین کے برعکس، چاند پر تقریباً کوئی فضا موجود نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سیارچے، شہابِ ثاقب اور دیگر خلائی ملبہ چاند کی سطح تک پہنچنے سے پہلے نہ تو سست ہوتا ہے اور نہ ہی جل کر تباہ ہوتا ہے۔ محققین کے اندازے کے مطابق، اس نئے گڑھے کو تخلیق کرنے والا جسم تین سے چھ منزلہ عمارت کے سائز کا تھا۔
- چاند پر ہر سال اس نوعیت کے تقریباً 140 نئے گڑھے بنتے ہیں
- سائنسدان تین منزلہ عمارت کے برابر چھوٹے گڑھوں کا بھی مشاہدہ کر سکتے ہیں
- یہ چھوٹے گڑھے تقریباً 1.10 میٹر چوڑے ملبے سے بنتے ہیں
سائنسی اہمیت
اگرچہ چاند پر پہلے سے بہت سے گڑھے موجود ہیں، جن میں سے کچھ اس نئے گڑھے سے کہیں زیادہ بڑے بھی ہیں، لیکن کسی گڑھے کی تشکیل کا تقریباً حقیقی وقت میں مشاہدہ اور اس کے ارتقا کا جائزہ چاند کی پیچیدہ ارضیات کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس تحقیق سے مستقبل کے انسانی مشنوں کی تیاری میں بھی مدد ملے گی، خاص طور پر جب امریکہ اور چین دونوں چاند کی سطح پر مستقل اڈے قائم کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ اس طرح کی دریافتیں خلائی مشنوں کے دوران ممکنہ خطرات کا اندازہ لگانے اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ چاند اب بھی متحرک ہے اور خلائی ملبے کے مسلسل تصادم کا سامنا کر رہا ہے۔ سائنسدانوں کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اس نئے گڑھے کا تفصیلی مطالعہ کر کے چاند کی سطح کی تشکیل اور ارضیاتی تاریخ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کر سکیں۔
