امریکی ریپر میکل مور نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایڈ شیران کے ساتھ اپنے ٹور کی خالص کمائی یعنی دس لاکھ ڈالر چھ فلسطینی تنظیموں کو عطیہ کریں گے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ پیر کو انہیں شیران کے “لوپ ٹور” سے ہٹا دیا گیا تھا۔
میکل مور کو اس ٹور سے نکالنے کا فیصلہ ان کے اس خطاب کے بعد کیا گیا جس میں انہوں نے آزاد فلسطین کی حمایت میں آواز بلند کی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف شیران کے دیگر تمام معاون فنکاروں نے بھی احتجاجاً ٹور سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔
فلسطینی عوام کی جانب توجہ مبذول کرانے کی کوشش
اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں میکل مور نے کہا کہ وہ گفتگو کو واپس وہاں لے جانا چاہتے ہیں جہاں اس کا ہونا چاہیے تھا، یعنی “ان فلسطینیوں کی طرف جو اب بھی مارے جا رہے ہیں، فوجی قبضے میں زندگی گزار رہے ہیں اور اپنی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں”۔
انہوں نے ارب پتی رابرٹ کرافٹ کو دعوت دی کہ وہ بھی اپنی جانب سے اتنی ہی رقم عطیہ کریں اور کہا کہ “ہمارے درمیان اختلافات جو بھی ہوں، شاید ہم اس بات پر متفق ہو سکتے ہیں کہ فلسطینیوں کی زندگیاں تحفظ کی مستحق ہیں”۔
واضح رہے کہ رابرٹ کرافٹ کے اسرائیل کے ساتھ گہرے خیراتی روابط ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے 2019 میں انہیں ایوارڈ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ “اسرائیل کا رابرٹ کرافٹ سے زیادہ وفادار کوئی دوست نہیں”۔
رابرٹ کرافٹ میساچوسٹس کے گلیٹ اسٹیڈیم کے مالک ہیں اور انہوں نے ایڈ شیران کو بتایا تھا کہ ان کے اسٹیڈیم میں ٹور کی تقریبات اس وقت تک نہیں ہو سکتیں جب تک میکل مور کو ٹور سے نہ ہٹایا جائے۔
عطیہ دینے والی تنظیموں کے نام
میکل مور نے اپنی پوسٹ میں جن چھ تنظیموں کا ذکر کیا جنہیں وہ اپنی کمائی سے عطیہ دیں گے ان میں شامل ہیں:
- فلسطینی چلڈرن ریلیف فنڈ
- ہیل فلسطین
- غزہ سوپ کچن
- میڈیکل ایڈ فلسطین
- اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (UNRWA)
- امریکن نیئر ایسٹ ریفیوجی ایڈ
ریپر نے کہا کہ ان کا خطاب اور موقف کبھی سرخیوں یا تنازعات کے بارے میں نہیں تھا بلکہ یہ ہمیشہ فلسطینیوں کے “اپنے وطن میں آزادی، وقار اور تحفظ” کے حق کے بارے میں تھا۔
انہوں نے کہا کہ وہ ان والدین کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں “جو اپنے بچوں کو ہسپتال لے جا رہے ہیں جہاں ان کے علاج کے لیے بنیادی وسائل بھی موجود نہیں، اور وہ ڈاکٹر، پیرا میڈیکس، صحافی اور امدادی کارکن جو بار بار واپس جا رہے ہیں”۔
میکل مور نے کہا کہ چیک لکھنا فلسطین کے عوام کی حمایت کا سب سے کم مہنگا طریقہ ہے اور ایسے کارکن اور منتظم موجود ہیں “جنہوں نے فلسطین کے ساتھ کھڑے ہونے کی حقیقی قیمت ادا کی ہے”۔
ان کا کہنا تھا کہ امداد اس بحران سے مکمل طور پر نمٹنے کے لیے کافی نہیں ہے اور انہوں نے فلسطین کی صورتحال کو “انسانی ساختہ ناانصافی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اصل ضرورت “سیاسی تبدیلی” کی ہے اور فلسطینیوں کو بنیادی حقوق کے لیے “ایک دن بھی مزید انتظار نہیں کرنا چاہیے”۔
رابرٹ کرافٹ کا جواب اور دو ملین ڈالر کا وعدہ
رابرٹ کرافٹ نے میکل مور کی پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے گلیٹ اسٹیڈیم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی عطیہ دینے پر رضامند ہو چکے ہیں اور ایڈ شیران نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔
بیان میں کرافٹ نے کہا کہ انہوں نے “اپنی زندگی کا بڑا حصہ تمام لوگوں کے درمیان پل بنانے میں صرف کیا ہے” اور وہ “گہرائی سے یقین رکھتے ہیں کہ تمام زندگیاں تحفظ کی مستحق ہیں”۔
تاجر نے بتایا کہ ایڈ شیران نے ان سے رابطہ کیا تھا کہ وہ “خطے میں امداد” کے لیے دو ملین ڈالر کے عطیے میں ان کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس پر خوشی سے رضامند ہوئے اور گلوکار اب اسی تجویز کے ساتھ دیگر اسٹیڈیم مالکان سے بھی رابطہ کر رہے ہیں۔
کرافٹ نے کہا کہ وہ فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ انہوں نے کئی دہائیوں سے “فلسطینیوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کی کوششوں کی حمایت کی ہے اور نوجوان فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو اکٹھا لا کر کاروبار قائم کرنے، روزگار پیدا کرنے اور تعلقات استوار کرنے میں مدد کی ہے”۔
ٹور سے نکالے جانے پر ردعمل
یہ وعدے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب لوپ ٹور سے میکل مور کو ہٹانے کے فیصلے نے شائقین اور تفریحی صنعت دونوں میں شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔
ایڈ شیران نے منگل کو اس تنازعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ پلیٹ فارم کو سیاست کے لیے استعمال نہیں کرتے اور میکل مور کو ہٹانے کا فیصلہ ان کا نہیں تھا بلکہ یہ معاملات ٹور کے منتظمین کے ذمے تھے۔
گلوکار کے تمام معاون فنکاروں بشمول سنگر فنیاس اور ٹور کے بینڈ بوئگا نے میکل مور کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ کی تقریبات سے دستبرداری کا فیصلہ کیا تھا۔
