فرانس کے بڑے شہروں میں فیٹ بائیکس یعنی چوڑے ٹائر والی الیکٹرک سائیکلوں کی آمد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یہ سائیکلیں جو پہلے صرف کھلے میدانوں اور پہاڑی علاقوں تک محدود تھیں، اب شہروں کی سڑکوں اور سائیکل ٹریکس پر عام نظر آتی ہیں۔ ان کی بڑھتی مقبولیت کے ساتھ ہی مختلف حلقوں میں تشویش اور تنازعات بھی جنم لے رہے ہیں۔
فیٹ بائیک کیا ہے اور کیوں مقبول ہو رہی ہے؟
فیٹ بائیک ایک ایسی الیکٹرک سائیکل ہے جس میں انتہائی چوڑے ٹائر لگے ہوتے ہیں۔ یہ ڈیزائن اسے زیادہ استحکام اور آرام فراہم کرتا ہے۔ فرانس میں کئی دکاندار برسوں سے ان سائیکلوں کی فروخت میں مصروف ہیں۔
ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ فیٹ بائیک ایک حقیقی ذریعہ نقل و حمل ہے۔ چوڑی سیٹ اور بہتر استحکام والے ٹائر استعمال میں خاصی سہولت دیتے ہیں۔ ان کے گاہکوں میں زیادہ تر پچاس سال سے زائد عمر کے افراد شامل ہیں، تاہم خریداروں کا تنوع بھی موجود ہے۔
کچھ لوگ انہیں تفریح کے لیے استعمال کرتے ہیں تو کچھ موٹرائزڈ سواری کا متبادل بناتے ہیں۔ ایسے افراد کے لیے یہ سائیکل خاصی مددگار ثابت ہوتی ہے جن کے ڈرائیونگ لائسنس منسوخ ہو چکے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں الیکٹرک اسسٹنس کی بدولت ساحل کے بڑے حصے تک رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔
معاشی پہلو اور عملی فوائد
پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کچھ صارفین نے اپنی گاڑیاں گھروں میں کھڑی کر کے فیٹ بائیک کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ بیٹری کی کارکردگی اب سو کلومیٹر تک سفر ممکن بناتی ہے۔ ایک تاجر خود روزانہ تقریباً چالیس کلومیٹر کا سفر کر کے اپنی دکان پہنچتا ہے۔
روایتی الیکٹرک سائیکل کے مقابلے میں فیٹ بائیک کی شبیہ زیادہ دلکش سمجھی جاتی ہے۔ پچیس سے پینتیس سال کی عمر کے نوجوانوں میں یہ سکوٹر کا متبادل بنتی جا رہی ہے۔
معاشی لحاظ سے بھی یہ سکوٹر سے سستی ہے۔ فیٹ بائیک کے لیے نہ ہی ہیلمٹ لازمی ہے اور نہ انشورنس کی ضرورت۔ درآمدی ماڈلز کی قیمت آٹھ سو سے ایک ہزار یورو کے درمیان ہے جبکہ سکوٹر پندرہ سو سے دو ہزار یورو میں دستیاب ہوتا ہے۔ دیکھ بھال کا خرچ بھی کم ہے اور اگر صارف احتیاط برتے تو مرمت کی ضرورت کم پڑتی ہے۔
ڈی ریسٹرکشن کا مسئلہ اور حفاظتی خدشات
فیٹ بائیک پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ انہیں آسانی سے ڈی ریسٹرکٹ کیا جا سکتا ہے۔ تمام الیکٹرک سائیکلوں کے لیے پچیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی مقررہ حد کو انٹرنیٹ پر دستیاب ویڈیوز کی مدد سے تبدیل کرنا ممکن ہے، جو پیدل چلنے والوں اور دیگر سائیکل سواروں کے لیے خطرہ ہے۔
ایک تنظیم نے 125 الیکٹرک سائیکل ماڈلز کے تجزیے کے بعد انکشاف کیا کہ فرانس میں فروخت ہونے والی 96 فیصد فیٹ بائیکس غیر معیاری ہیں۔ سائیکل استعمال کنندگان کی فیڈریشن نے بھی ان غیر قانونی سائیکلوں کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوامی مقامات پر صارفین کے درمیان ہم آہنگی کو خراب کر رہی ہیں۔
تاہم دکانداروں کا دعویٰ ہے کہ ڈی ریسٹرکشن کی خواہش رکھنے والے گاہکوں کی تعداد بہت کم ہے۔ ان کے مطابق پچانوے فیصد گاہکوں کی خواہش صرف یہ ہے کہ سائیکل چڑھائیوں میں مدد کرے اور آرام دہ ہو، وہ پچیس کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار نہیں چاہتے۔
نسلی تعصب کا پہلو
ایک ڈچ مصنف نے اپنے ایک مضمون میں رائے دی کہ فیٹ بائیکس کے خلاف نفرت میں نسلی تعصب کا عنصر بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق یہ کثیر الثقافتی نوجوان نسل کی پسندیدہ سواری ہے۔ فرانس میں بھی کھانے پہنچانے والے ڈیلیوری ورکرز جن کا تعلق اکثر تارکین وطن خاندانوں سے ہوتا ہے، ان کا ان سائیکلوں کا استعمال ان کی بدنامی کی ایک وجہ بن سکتا ہے۔
ضابطوں اور کنٹرول کی ضرورت
بہت سے حلقے فیٹ بائیکس کے بہتر ضابطے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ سائیکلیں سائیکل سواروں کی بدنامی کا سبب بنیں گی۔ ان کے مطابق ریاست کو چاہیے کہ آسانی سے ڈی ریسٹرکٹ ہونے والی مشینوں کی خریداری مشکل بنائے، سڑکوں پر چلنے والوں کی جانچ کرے اور غیر قانونی سائیکلوں کے خلاف کارروائی کرے۔
کئی شہروں میں چیکنگ مہمات تیز کر دی گئی ہیں۔ پیرس اور مضافاتی علاقوں میں پولیس روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہی ہے جس میں غیر معیاری یا ڈی ریسٹرکٹڈ سائیکلوں کو ضبط کیا جاتا ہے۔
تاہم ایک دکاندار کا ماننا ہے کہ اس تنقید کی کوئی بنیاد نہیں۔ ان کے مطابق فیٹ بائیک اور عام الیکٹرک سائیکل میں صرف نام کا فرق ہے، ورنہ دونوں ایک جیسی ہیں۔
