جنیوا: اقوام متحدہ کی تنظیم برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) نے انکشاف کیا ہے کہ فلسطینی علاقہ غزہ اس وقت دنیا کی “بدترین معاشی تباہی” سے گزر رہا ہے، جس نے ترقی کی کئی دہائیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ انکٹاڈ کے قائم مقام سیکرٹری جنرل پیڈرو مینوئل مورینو نے جمعرات پچیس ستمبر کو جنیوا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بحران غزہ کی پٹی میں “ترقی کی کئی دہائیوں کو ملیا میٹ کر چکا ہے”۔
غربت اور بے روزگاری کی تباہ کن صورتحال
رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 سے قبل غزہ کے دو تہائی باشندے غربت کی زندگی گزار رہے تھے، لیکن اب پوری آبادی اس بحران سے متاثر ہے۔ انکٹاڈ میں فلسطینی عوام کی امداد کے لیے رابطہ کاری کے ذمہ دار مطاسم العگرا نے بتایا کہ “صورتحال پہلے ہی تباہ کن تھی، جو اب مزید بگڑ گئی ہے”۔ انہوں نے بتایا کہ رہائشی شعبے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے، جس کا تخمینہ 2025 تک 19 بلین ڈالر لگایا گیا ہے۔
صنعت، زراعت اور روزگار پر تباہ کن اثرات
- غزہ میں صنعتی سرگرمی اور زرعی پیداوار میں 94 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
- قابل کاشت زمین کا صرف 1.5 فیصد حصہ قابل استعمال اور قابل رسائی ہے، جس کے نتیجے میں خوراک کی امداد پر مکمل انحصار لازم ہو گیا ہے۔
- تنازعے نے لاکھوں ملازمتیں ختم کر دیں، جس سے 2023 سے اب تک مزدوری کی آمدنی میں مجموعی طور پر 2.8 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔
- غزہ کی 90 فیصد سے زائد کام کرنے کی عمر کی آبادی بے روزگار ہے۔
- اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے 92 فیصد معاشی ادارے تباہ کر دیے ہیں۔
تعمیر نو کا بوجھ اور طویل بحالی
رپورٹ کے مطابق غزہ کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے درکار رقم 71.5 بلین ڈالر (تقریباً 63 بلین یورو) ہے، جو “مزید بڑھنے کا خدشہ” ہے۔ ورلڈ بینک اور فلسطینی مرکزی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار پر مبنی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مغربی کنارے کو اپنی سابقہ فی کس جی ڈی پی کی سطح دوبارہ حاصل کرنے میں کئی سال لگیں گے، جبکہ غزہ کو اس مقام تک پہنچنے میں ایک دہائی سے زیادہ وقت درکار ہوگا۔
