لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو ہدایت دی ہے کہ آن لائن مالی فراڈ، ہراسانی اور منظم سائبر جرائم کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی مزید تیز کی جائے۔
وزیر داخلہ نے این سی سی آئی اے سنٹرل زون کے ہیڈ کوارٹر لاہور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے سائبر مجرموں کے خلاف جاری کارروائیوں اور تحقیقات کے جائزے کے لیے ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں آن لائن مالی فراڈ، ہراسانی اور منظم سائبر جرائم کے نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
شکایات سیل، فرانزک لیبارٹری اور تفتیشی ونگ کا معائنہ
وزیر داخلہ نے شکایات سیل، فرانزک لیبارٹری اور تفتیشی ونگ کا بھی معائنہ کیا اور شہریوں کی شکایات کے اندراج سے لے کر تحقیقات اور مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی تک کے نظام کا جائزہ لیا۔
انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ زیر التواء مقدمات اور شکایات کا کیس بہ کیس جائزہ لیا جائے اور غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شکایت درج کروانے کے بعد شہریوں کو مہینوں انتظار نہ کرنا پڑے اور ہر کیس میں بروقت پیش رفت نظر آئے۔
ڈیجیٹل فرانزک صلاحیتوں میں اضافے کی ہدایت
وزیر داخلہ نے ڈیجیٹل فرانزک صلاحیتوں کو بڑھانے، جدید فرانزک ٹولز کے استعمال اور تفتیشی افسران کو خصوصی تربیت فراہم کرنے کے اقدامات کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن مالی فراڈ، جعلی اکاؤنٹس، ڈیجیٹل بلیک میلنگ اور آن لائن ہراسانی میں ملوث منظم گروہوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ مالی فراڈ کی شکایات کے لیے ایک مؤثر فوری ردعمل کا نظام قائم کیا جائے تاکہ متعلقہ اداروں کے ساتھ بروقت رابطہ کاری سے متاثرین کی رقم محفوظ بنانے اور مشتبہ افراد تک پہنچنے کے امکانات بہتر ہو سکیں۔
روایتی تفتیشی طریقے ناکافی، جدید ٹیکنالوجی ضروری
محسن نقوی نے کہا کہ سائبر جرائم کی نئی اقسام کا مقابلہ صرف روایتی تفتیشی طریقوں سے نہیں کیا جا سکتا، اس لیے جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ این سی سی آئی اے کو ایک جدید سائبر پولیس فورس میں تبدیل کیا جائے جو ڈیجیٹل دنیا میں شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے۔
وزیر داخلہ نے حکام کو ہدایت دی کہ آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور خواتین و بچوں کے ڈیجیٹل استحصال سے متعلق شکایات کو خصوصی ترجیح دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کے ڈیٹا، پرائیویسی اور مالی مفادات کا تحفظ این سی سی آئی اے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
عوامی آگاہی مہم کی ضرورت پر زور
انہوں نے آن لائن فراڈ کے نئے طریقوں کی نشاندہی اور شہریوں کو سائبر جرائم سے بچاؤ کے لیے ایک مؤثر عوامی آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے وزیر داخلہ کو سنٹرل زون کی کارکردگی، زیر تفتیش مقدمات، سائبر فراڈ کے رجحانات اور جاری کارروائیوں پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں ڈی جی ایف آئی اے، اسلام آباد پولیس چیف، ایف آئی اے لاہور زون کے ڈائریکٹر اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ لاہور میں این سی سی آئی اے کی حالیہ کارروائیوں میں مبینہ سائبر فراڈ اور غیر قانونی کال سینٹرز کو نشانہ بنایا گیا، جس میں 24 ستمبر کو 11 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا اور تفتیش کے لیے ڈیجیٹل آلات بھی قبضے میں لیے گئے۔
