لبنان کی ایک عدالت نے ملک کے جنوبی علاقے میں واقع گاؤں حومین التحتا کے ایک گھر سے ایرانی پرچم ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ یہ معاملہ گزشتہ ماہ اس وقت شروع ہوا جب حزب اللہ اور امل تحریک کے حامیوں نے گاؤں میں اپنے اپنے پرچم لگانے کی کوشش کی۔
تنازعے کا پس منظر
لبنانی روزنامے لورینٹ ٹوڈے کے مطابق، عدالتی ذرائع نے بتایا کہ اگست میں حزب اللہ اور امل کے حامیوں کے درمیان پرچم لگانے کے معاملے پر تنازعہ کھڑا ہوا۔ بعد ازاں حزب اللہ کے حامیوں نے ایک گھر پر ایرانی پرچم لہرا دیا، جس پر نبطیہ کے پراسیکیوٹر نجات ابو شقرا نے دونوں فریقین کو دس دن کے اندر پرچم ہٹانے کا حکم جاری کیا۔
لبنانی قانون اور غیر ملکی پرچم
لبنانی قانون کے مطابق عوامی یا نجی جائیداد پر غیر ملکی پرچم لگانا ممنوع ہے۔ یہ کیس لبنانی حکام کی جانب سے ایرانی سیاسی علامات کے خلاف حالیہ اقدامات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
- جون میں وزیر داخلہ احمد حجار نے بیروت ایئرپورٹ جانے والی سڑک سے ایران کا شکریہ ادا کرنے والے بینرز اور ایرانی رہنماؤں کی تصاویر ہٹانے کا حکم دیا تھا۔
- لبنانی قانون عوامی اور نجی املاک پر غیر ملکی پرچم لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔
- عدالت نے دونوں فریقین کو دس دن کی مہلت دی ہے کہ وہ متنازعہ پرچم ہٹا دیں۔
علاقائی تناظر
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان میں ایرانی اثر و رسوخ کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ حزب اللہ اور امل تحریک دونوں لبنانی سیاست میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اور ان کے حامیوں کے درمیان پرچم کے معاملے پر پیدا ہونے والا تنازعہ مقامی سطح پر سیاسی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔
عدالتی حکم کے بعد یہ دیکھنا باقی ہے کہ دونوں فریق مقررہ مدت کے اندر پرچم ہٹانے کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہیں یا نہیں، اور آیا اس معاملے پر مزید قانونی کارروائی عمل میں آتی ہے۔
