پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے ارکان اسمبلی، وزراء اور دیگر پارلیمانی عہدیداروں کے خلاف پولیس کارروائیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبر پختونخوا کو خط ارسال کرتے ہوئے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پیش آنے والے تمام واقعات کی تفصیلات مانگ لی ہیں۔
خط میں کیا ہدایات دی گئی ہیں؟
اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ خط میں آئی جی کو ہدایت کی گئی ہے کہ ارکان اسمبلی، وزراء، مشیران، خصوصی معاونین اور پارلیمانی سیکرٹریز سے متعلق تمام واقعات کا مکمل ریکارڈ فراہم کیا جائے۔ خط کے مطابق متعلقہ افراد کی گرفتاری، حراست، چھاپوں، حملوں اور ان کی رہائش گاہوں کی تلاشی سے جڑے تمام ریکارڈ کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔
تھانوں میں درج رپورٹس اور ایف آئی آرز بھی طلب
خط میں تھانوں میں درج متعلقہ رپورٹس اور ایف آئی آرز کے علاوہ ان افراد کے ریکارڈ کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جنہوں نے پولیس کے سامنے واقعات کی اطلاع دی۔ اسمبلی سیکرٹریٹ نے ہدایت کی ہے کہ مطلوبہ مکمل ریکارڈ فوری طور پر فراہم کیا جائے تاکہ اسے خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کے سامنے پیش کیا جا سکے۔
آئینی دفعات اور قواعد کا حوالہ
خط میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ معلومات آئین پاکستان کے آرٹیکل 66، 67 اور 127 کے تحت طلب کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا اسمبلی رولز اینڈ پروسیجرز 2025 اور صوبائی اسمبلی پاورز، پرائیویلیجز اینڈ پرائیویلیجز ایکٹ 2026 کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
- ارکان اسمبلی، وزراء، مشیران، خصوصی معاونین اور پارلیمانی سیکرٹریز سے متعلق واقعات کا ریکارڈ طلب
- گرفتاری، حراست، چھاپوں، حملوں اور رہائش گاہوں کی تلاشی کی تفصیلات مانگی گئیں
- تھانوں میں درج رپورٹس، ایف آئی آرز اور شکایات کا ریکارڈ بھی طلب
- آئین کے آرٹیکل 66، 67 اور 127 کے تحت معلومات حاصل کی جا رہی ہیں
- مکمل ریکارڈ فوری طور پر اسپیکر کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صوبائی سطح پر ارکان اسمبلی اور پارلیمانی عہدیداروں کے خلاف پولیس کارروائیوں کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اسپیکر کی جانب سے ریکارڈ طلب کرنے کا اقدام اسمبلی کے ارکان کی پارلیمانی مراعات اور تحفظ کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
