ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں پولیس چیک پوسٹ پر خودکش کار بم حملے کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے سلسلے میں سی ٹی ڈی کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
مقدمے میں شامل دفعات
ایف آئی آر سی ٹی ڈی کی شکایت پر درج کی گئی جس میں قتل، قتل کی کوشش اور دہشت گردی سمیت 14 دفعات شامل ہیں۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق فتنہ الخوارج نے بارود سے بھری گاڑی امان میلہ چیک پوسٹ سے ٹکرا دی۔
زخمیوں اور لاشوں کو لے جانے والی ایمبولینس کو بھی نشانہ بنایا گیا
ایف آئی آر کے مطابق زخمیوں اور لاشوں کو منتقل کرنے والی ایمبولینس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایک مقامی دہشت گرد تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
شہداء میں پولیس، کسٹم اہلکار اور خواتین شامل
ابتدائی اطلاعات کے مطابق شہید ہونے والوں میں چھ پولیس اہلکار، دو کسٹم حکام، دو خواتین اور ایک دو سالہ بچہ شامل ہے۔ حملے میں پولیس اور کسٹم کے اہلکاروں سمیت کئی دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔
ریسکیو اور پولیس ذرائع کی تصدیق
ریسکیو 1122 اور پولیس ذرائع نے ابتدائی طور پر دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرائی جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہسپتال آمد
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے جہاں سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں خودکش حملے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کی۔
