پیرس: فرانس کے پیشہ ور فائر فائٹرز نے اتوار کے روز ایفل ٹاور کے دامن میں کیمپ لگا کر اپنے غصے کا اظہار کیا ہے۔ یہ احتجاج ایک طویل اور تھکا دینے والے موسم گرما کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں ملک بھر میں جنگلات کی آگ نے تباہی مچائی۔
عام طور پر سیاحوں سے بھرا رہنے والا شیمپ ڈی مارس کا علاقہ اتوار کی صبح پیشہ ور فائر فائٹرز کے یونینوں کے زیرِ قبضہ تھا۔ آٹھ یونینوں کے اتحاد نے “غصے کے کمک دستے” کے نام سے یہ احتجاجی کیمپ لگایا۔
احتجاج کی وجوہات
فائر فائٹرز کی یونین کے نمائندے ڈیوڈ ساکے کے مطابق اس احتجاج کا مقصد عوام اور منتخب نمائندوں سے ملاقات کرنا اور انہیں بتانا ہے کہ “ہمارے دلوں میں کیا ہے، ہمارا پرامن غصہ اور حکومت تک اپنی آواز پہنچانے کا عزم”۔
یونینوں کا کہنا ہے کہ وہ تنخواہوں میں اضافے، بھرتیوں، صحت کے بہتر تحفظ اور فرائض کی حدود کے تعین کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
تھکا دینے والا موسم گرما
فائر فائٹرز کا کہنا ہے کہ وہ اس موسم گرما میں شدید تھکن کا شکار ہوئے ہیں جب انہیں فرانس میں پہلی بار “آگ کا طوفان” یعنی پائروکیومولونیمبس کا سامنا کرنا پڑا۔
- جنوری سے اب تک فرانس میں تقریباً 98,000 ہیکٹر رقبہ آگ کی نذر ہو چکا ہے، جو پچاس سالوں میں ایک ریکارڈ ہے۔
- قومی فائر فائٹرز فیڈریشن کے مطابق مختلف کارروائیوں میں آٹھ فائر فائٹرز جان سے گئے ہیں۔
- فائر فائٹرز سالانہ تقریباً 2 کروڑ کالز موصول کرتے ہیں اور 50 لاکھ کے قریب کارروائیاں انجام دیتے ہیں۔
ہڑتال کا اعلان
تقریباً 44,000 پیشہ ور فائر فائٹرز کی نمائندہ نو یونینوں نے 8 ستمبر سے ہڑتال کا نوٹس جمع کروا رکھا ہے جو 20 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ تاہم یونین کا کہنا ہے کہ “جبتک مطمئن نہیں کیا جاتا، ہڑتال کا نوٹس واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا”۔
پیر کو دارالحکومت میں ایک مارچ کا بھی منصوبہ ہے، جبکہ منگل کو سرکاری ملازمین کی بڑی احتجاجی ریلی میں شرکت متوقع ہے۔
حکومتی ردعمل
سول سیکیورٹی کی ڈائریکشن کا کہنا ہے کہ 8 ستمبر سے روزانہ اوسطاً 2,682 پیشہ ور فائر فائٹرز ہڑتال پر ہیں جو کل افرادی قوت کا 9.3 فیصد بنتے ہیں۔ تاہم عملے کی تعیناتی کی وجہ سے امدادی کارروائیوں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
فائر فائٹرز کی نظر 20 اکتوبر کو پیش ہونے والے بجٹ منصوبے پر ہے، جس میں ان کے محکمے کے لیے نئی مالیاتی پالیسیوں کا اعلان متوقع ہے۔
