واشنگٹن: چین میں امریکہ کے سفیر ڈیوڈ پرڈیو نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کو امریکی ہتھیار خریدنے کی پیشکش کی تھی۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تائیوان کو ہتھیاروں کی فراہمی پر بیجنگ کے تحفظات نے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی کو ہوا دی ہے۔
سفیر کا متنازع بیان
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ڈیوڈ پرڈیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ مسلسل یہ موقف اپناتے ہیں کہ “ہم دنیا کے دیگر ممالک کو ہتھیار فروخت کرتے ہیں” اور انہوں نے ایک موقع پر صدر شی جن پنگ سے یہ بھی پوچھا کہ کیا وہ امریکی ہتھیار خریدنا چاہیں گے۔ سفیر نے یہ واضح نہیں کیا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ گفتگو کب ہوئی تھی۔
پرڈیو کے مطابق، “دیگر ہتھیاروں کی فروخت پر مسلسل بات چیت جاری ہے اور صدر ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ ہر ملاقات میں اس پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔” انہوں نے زور دیا کہ امریکہ کا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی تردید
سفیر کے اس بیان نے امریکہ میں ہلچل مچا دی ہے۔ نیو یارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے واضح کیا کہ امریکہ کا چین کو ہتھیار فروخت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، جس سے اپنے ہی سفیر کے بیان کی تردید ہوتی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ “امریکی قانون چین کو ہتھیاروں کی فروخت کی اجازت نہیں دیتا اور اس حوالے سے کوئی پیشکش یا منصوبہ موجود نہیں ہے۔” واضح رہے کہ 1989 میں تیانانمین اسکوائر کے واقعے کے بعد سے امریکہ اور یورپی یونین نے بیجنگ پر ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
تائیوان پر اثرات
امریکی سفیر کا یہ بیان اس لیے بھی حیران کن ہے کہ امریکہ میں چین کو اقتصادی، فوجی اور سفارتی حوالے سے سب سے بڑا حریف سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات بھی کسی بڑی پیش رفت کے بغیر اختتام پذیر ہوئی تھی۔
چین کو ہتھیار فروخت نہ کرنے کے علاوہ امریکہ قانونی طور پر “تائیوان ریلیشنز ایکٹ” کا بھی پابند ہے، جس کے تحت تائیوان کو اپنے دفاع کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنا لازمی ہے۔
ڈیوڈ پرڈیو کے اس انکشاف سے سب سے زیادہ تشویش تائیوان میں پیدا ہو سکتی ہے، کیونکہ تائیوان کو امریکی حمایت بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تناؤ کا ایک اہم نکتہ ہے۔ گزشتہ دسمبر میں امریکہ نے تائیوان کو 11.1 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دی تھی، جس پر چین نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔
جون میں بیجنگ نے تائیوان کو خبردار کیا تھا کہ “امریکہ کے سہارے یا فوجی طاقت کے ذریعے آزادی کی تلاش ایک بند گلی ہے۔”
ٹرمپ کی پالیسی پر تنقید
فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے ڈیوڈ پرڈیو نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے “1979 کے بعد کسی بھی صدر کے مقابلے میں تائیوان کو زیادہ ہتھیار فروخت کیے ہیں۔”
تاہم، صدر ٹرمپ نے تائیوان کی سلامتی کے لیے 14 بلین ڈالر کے ایک پیکج کی منظوری بھی مؤخر کر دی تھی۔ اس سے قبل چار ریپبلکن سینیٹرز نے شی جن پنگ کے ساتھ سربراہی اجلاس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کو خط لکھ کر اس معاملے کو جلد آگے بڑھانے پر زور دیا تھا، جس کا کوئی جواب نہیں ملا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور چین کے تعلقات مختلف محاذوں پر کشیدگی کا شکار ہیں، اور تائیوان کا معاملہ دونوں طاقتوں کے درمیان سب سے حساس تنازعات میں سے ایک ہے۔
