اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف برطانیہ اور امریکہ کے دو ہفتے پر محیط دورے کے اختتام پر آج (منگل) پاکستان واپس پہنچیں گے۔ وزیراعظم نے 16 ستمبر کو اسلام آباد سے روانہ ہو کر پہلے لندن کا سفر کیا اور اس کے بعد نیویارک پہنچے جہاں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کی۔
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب دورے کا اہم ترین موقع
وزیراعظم کے دورے کا سب سے اہم مرحلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ان کا خطاب تھا، جس میں انہوں نے علاقائی سلامتی، پانی کے حقوق، عالمی تنازعات اور امن کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر پاکستان کا مؤقف واضح کیا۔
وزیراعظم کے دفتر کے ایک ذریعے کے مطابق شہباز شریف چند روز قبل نیویارک سے لندن پہنچے تھے اور توقع ہے کہ وہ منگل کی صبح پاکستان کے لیے روانہ ہوں گے۔
نیویارک کے دورے میں اہم شخصیات کی معیت
نیویارک کے دورے کے دوران وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق دار، وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام موجود تھے۔
ایرانی صدر سے اہم ملاقات
امریکہ میں قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں علاقائی امن، دوطرفہ تعاون اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازعے، بالخصوص آبنائے ہرمز کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی عالمی رہنماؤں کے درمیان بات چیت کا اہم موضوع رہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی ملاقات کی اور موسمیاتی تبدیلی، اسلامو فوبیا اور علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا۔
اس کے علاوہ وزیراعظم نے کویت کے ولی عہد، بوسنیا اور ہرزیگووینا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین، اور کینیا اور آسٹریا کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں اقتصادی تعاون، دوطرفہ تعلقات اور کثیرالجہتی امور پر توجہ دی گئی۔
دورے کا اختتام
وزیراعظم کی وطن واپسی کے ساتھ برطانیہ اور امریکہ کے اس طویل سفارتی دورے کا اختتام ہو جائے گا۔
