کراچی: سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کو میر رضا کیس سے متعلق سیل بند رپورٹ موصول ہو گئی ہے، جبکہ صوبائی کابینہ اس رپورٹ کی سفارشات کے نفاذ پر حتمی فیصلہ کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان کے مطابق کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوگا، جہاں سیل بند رپورٹ کھول کر کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی۔
رپورٹ کی اہمیت اور ممکنہ اثرات
میر رضا کیس کے حوالے سے یہ رپورٹ انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ اس میں شامل نکات اور سفارشات آئندہ کے لائحہ عمل کے تعین میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مندرجات اب تک سامنے نہیں آئے، اس لیے یہ واضح نہیں کہ اس میں کون سے پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے اور کیا اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ حکومت کو پیش
اس سے قبل میر رضا کی موت کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے اپنی انکوائری رپورٹ سندھ حکومت کو جمع کروا دی تھی، جس کے بعد یہ فیصلہ صوبائی حکومت کے اختیار میں ہے کہ رپورٹ کے نتائج کو عوامی سطح پر جاری کیا جائے یا نہیں۔ ذرائع کے مطابق سندھ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سیکرٹری جاوید ابڑو نے چار جلدوں پر مشتمل رپورٹ وصول کی، جو سیل بند لفافے میں جمع کروائی گئی تھی۔ رپورٹ اور اس کے کورنگ لیٹر دونوں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے نام ہیں۔
کمیشن کی کارروائی کی تفصیلات
رپورٹ وصول کرنے کے بعد جاوید ابڑو نے بتایا کہ کمیشن کے نتائج حکومت کے حوالے کر دیے گئے ہیں اور مزید کارروائی کا فیصلہ صوبائی حکومت کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ کمیشن کی کارروائی کھلی عدالت میں ہوئی، تاہم رپورٹ سیل بند لفافے میں فراہم کی گئی۔
انکوائری کی تفصیلات کے مطابق کارروائی کے دوران 49 افراد کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ کمیشن نے 15 سماعتیں کیں اور ویڈیو لنک کے ذریعے دو بیانات ریکارڈ کیے۔ یہ کمیشن 24 اگست کو میر رضا کی موت کے حالات کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔
کیس کا پس منظر
میر رضا کی لاش 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے برآمد ہوئی تھی۔ ان کی موت کے بعد طویل احتجاجی مظاہرے ہوئے، جبکہ ابتدائی پوسٹ مارٹم کے بعد لاش نکال کر دوبارہ معائنہ بھی کیا گیا۔ کمیشن کی رپورٹ سے ان کی موت کے حالات پر روشنی پڑنے کی توقع ہے، بشمول اس سوال کے کہ آیا انہیں قتل کیا گیا یا خودکشی کی۔ تاہم رپورٹ کے نتائج ابھی تک عوامی نہیں کیے گئے۔
خاندان کا مطالبہ
سندھ حکومت یہ فیصلہ کرے گی کہ رپورٹ کو عوامی سطح پر جاری کیا جائے یا نہیں، جبکہ میر رضا کا خاندان کیس کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
