کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ہفتے کے روز شہر کے تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں ایک فیملی فیسٹیول کا افتتاح کیا اور کہا کہ ایک وقت تھا جب یہاں گولیوں کی آواز سنائی دیتی تھی، مگر اب یہاں جشن منایا جا رہا ہے۔
تاریخی ورثے کی بحالی اور نوجوان نسل
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ حکومت کا مقصد کراچی کے تاریخی ورثے کو بحال کر کے نوجوان نسل کو ان مقامات کی طرف راغب کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں یہاں بوہرہ فوڈ فیسٹیول منعقد ہوا تھا، جبکہ اس وقت خواتین شیف کا فیسٹیول جاری ہے۔
ان کے مطابق آئندہ دنوں میں ورلڈ بریانی فیسٹیول اور اس کے بعد پلاؤ فیسٹیول منعقد کرنے کا بھی منصوبہ ہے، جس سے اس علاقے میں رونق اور عوامی سرگرمیاں مزید بڑھیں گی۔
ایمپریس مارکیٹ کی بحالی میں نجی شعبے کا تعاون
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ایک نجی بینک نے ایمپریس مارکیٹ کی بحالی میں تعاون کیا ہے اور اس مقام کو مزید فعال بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے سڑکوں کی تعمیر کو عام شہریوں کے لیے مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ ناقدین تنقید کرتے رہیں گے، تاہم ترقیاتی کام جاری رہنا چاہیے۔
تجاوزات کے خلاف سخت موقف
میئر کراچی نے کہا کہ انہوں نے اینٹی انکروچمنٹ اسٹاف کو واضح ہدایات دی ہیں کہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے کے ڈی اے، کے ایم سی اور پولیس کو ایک ہی صفحے پر آنا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی افسر کو غلط طریقے سے کام کرتے ہوئے پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
پارکنگ فیس کے حوالے سے ہدایات
پارکنگ فیس کے معاملے پر میئر نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئی پارکنگ فیس نہیں ہوگی، لہٰذا ٹاؤن انتظامیہ اس فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔
- اگر کے ایم سی کسی بھی سڑک پر پارکنگ فیس وصول کر رہی ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے، کارروائی کی جائے گی۔
- تاریخی ورثے کی بحالی سے نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے گا۔
- تجاوزات کے خاتمے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔
واضح رہے کہ ایمپریس مارکیٹ کراچی کی قدیم ترین اور تاریخی مارکیٹوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں حالیہ برسوں میں مختلف ثقافتی اور فوڈ ایونٹس کے انعقاد سے عوامی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
