اسلام آباد: وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عاقل ملک نے خیبرپختونخوا کے ناکارہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر دہشت گردوں کی حمایت کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس حوالے سے ٹھوس ثبوت موجود ہیں جو عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔
ڈنیا نیوز کے مطابق، وزیر مملکت نے کہا کہ آئین میں ہنگامی حالت کے نفاذ یا اسے ختم کرنے کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں کی گئی، تاہم انہوں نے زور دیا کہ آفریدی کے معاملے میں قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنے دیا جائے گا اور متعلقہ ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
حفاظتی تحویل میں ہونے کا دعویٰ
بیرسٹر عاقل ملک نے مزید بتایا کہ سہیل آفریدی فی الوقت حفاظتی تحویل میں ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا کہ آفریدی کسی رائل گیسٹ ہاؤس میں رکھے گئے ہیں، اور کہا کہ ممکن ہے وہ کسی دوسرے گیسٹ ہاؤس میں مقیم ہوں۔
وزیر مملکت نے واضح کیا کہ آفریدی کے خلاف الزامات کے حوالے سے تمام دستاویزی ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ قانونی کارروائی شفاف طریقے سے آگے بڑھ سکے۔
28ویں آئینی ترمیم پر پیش رفت
ایک الگ بیان میں، عاقل ملک نے واضح کیا کہ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم پر باقاعدہ کام ابھی شروع نہیں ہوا ہے، جس کا مطلب ہے کہ قانون سازی کا عمل ابھی اپنے رسمی مرحلے میں داخل نہیں ہوا۔
- وزیر مملکت کا الزام: سہیل آفریدی دہشت گردوں کی حمایت میں ملوث ہیں
- آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں، ریکارڈ عدالت میں پیش ہوگا
- آئین میں ہنگامی حالت کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں
- 28ویں آئینی ترمیم پر رسمی کام ابھی شروع نہیں ہوا
واضح رہے کہ یہ الزامات وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عاقل ملک سے منسوب ہیں، اور انہوں نے کہا ہے کہ آفریدی کے خلاف معاملے کی مکمل دستاویزی تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں گی۔
