راولپنڈی: پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں سعودی عرب، ترکی اور ایران کے سینئر حکام کے ساتھ علاقائی سلامتی سے متعلق امور پر بات چیت ہوگی۔
ایرانی حکام نے بتایا کہ تہران جمعرات کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے سینئر حکام کی میزبانی کر رہا ہے جو مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک ہیں، اور یہ ملاقات علاقائی سلامتی، فلسطین و لبنان کی صورتحال اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے حوالے سے ہوگی۔
چار ملکی اجلاس کی تجویز پاکستانی آرمی چیف کی جانب سے
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس ملاقات پر پاکستان آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایران دورے کے موقع پر بات چیت ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ چار ملکی اجلاس کی تجویز پاکستانی آرمی چیف کی جانب سے پیش کی گئی، جس کے بعد تہران نے اس اجلاس کی میزبانی پر رضامندی ظاہر کی۔
بقائی کے مطابق مذاکرات میں فلسطین، لبنان اور وسیع تر خطے کی پیش رفت پر توجہ دی جائے گی اور علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا جائے گا۔
ایران اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا: ایرانی وزارت خارجہ
ایرانی ترجمان نے کہا کہ ایران صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف منظرناموں کے لیے تیار ہے، اور اپنی سلامتی کو لاحق ممکنہ خطرات کے خلاف اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔
ایرانی حکام نے تصدیق کی کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکی کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن اس اجلاس میں شرکت کے لیے تہران پہنچیں گے۔
سعودی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ سعودی وفد کی قیادت شہزادہ خالد بن سلمان کریں گے، جبکہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کے نمائندوں کی ایرانی حکام کے ساتھ ملاقات متوقع ہے۔
ایرانی صدر اور قومی سلامتی کونسل کے سربراہ بھی شرکت کریں گے
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کی بھی اجلاس میں شرکت متوقع ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور ایران کے درمیان تعاون علاقائی سلامتی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں کشیدگی جاری ہے، اور شرکاء سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر زور دیں گے۔
قطری ثالثی وفد کی تہران آمد
ادھر ایک قطری ثالثی وفد تہران پہنچ گیا ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبات ایرانی حکام تک پہنچائے گا۔
قطری نشریاتی ادارے کے مطابق ایران اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی اور ملک پر عائد بحری ناکہ بندی کے خاتمے پر زور دے رہا ہے۔
پس منظر: حوثی حملوں کے بعد علاقائی صورتحال
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب پر حوثی حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد خطے میں سلامتی کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ مبصرین کے مطابق تہران میں ہونے والی یہ ملاقات خطے میں اعتماد سازی اور کشیدگی میں کمی کے لیے ایک اہم موقع ثابت ہو سکتی ہے۔
