پشاور: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پہلی بار وفاقی حکومت سے رابطہ بحال کر لیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ رابطہ سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں کیا گیا، جنہیں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں مذاکرات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اور مذاکراتی اختیار
ذرائع کے مطابق 20 اکتوبر کو منعقد ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں علی امین گنڈاپور کو وفاقی حکومت سے مذاکرات کا اختیار دیا گیا تھا۔ اسی اختیار کے تحت انہوں نے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا۔
پارٹی ذرائع نے بتایا کہ رابطہ ان دو اہم وفاقی وزراء سے کیا گیا جو گورنر راج کے نفاذ سے قبل حکومتی مذاکراتی ٹیم کا حصہ رہے تھے۔
پی ٹی آئی کی ترجیحات
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی اولین ترجیحات میں سہیل آفریدی کی حکومت کی بحالی اور گرفتار پارٹی کارکنوں کی رہائی شامل ہے۔
- سہیل آفریدی کی حکومت کی بحالی
- گرفتار پارٹی کارکنوں کی رہائی
- وفاقی وزراء کے ساتھ براہ راست رابطہ
گورنر راج کے بعد سیاسی رابطے منقطع
واضح رہے کہ 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی رابطے منقطع ہو گئے تھے۔ اب پارٹی کی جانب سے دوبارہ رابطہ بحال کرنا اہم سیاسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ رابطہ بحالی صوبے میں جاری سیاسی بحران کے حل کی جانب ایک مثبت اشارہ ہے، تاہم مذاکرات کے حتمی نتائج کا انحصار دونوں فریقوں کے رویے پر ہوگا۔
