تہران: آسکر کے لیے نامزد ایرانی فلم ساز جعفر پناهی کو ایران کی اسلامی انقلابی عدالت نے غیر حاضری میں پانچ سال اور ایک ماہ قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ سزا ایسے وقت میں دی گئی ہے جب فلم ساز ملک سے باہر اپنی فلم کی تشہیر میں مصروف تھے۔
سزا کی تفصیلات اور وکیل کا بیان
پناهی کے وکیل مصطفیٰ نیلی کے مطابق ان کے موکل کے بینک اکاؤنٹس گزشتہ ہفتے منجمد کر دیے گئے تھے۔ وکیل نے بتایا کہ جب وہ اور پناهی ثقافت و میڈیا پراسیکیوٹر کے دفتر میں سزاؤں کی تعمیل کے یونٹ گئے تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے خلاف ایک نیا فیصلہ جاری کیا گیا ہے، جو بغیر کسی پیشگی قانونی اطلاع کے سنایا گیا۔
پناهی کی فلمی کامیابیاں
جعفر پناهی کی فلم “اٹ واز جسٹ ایکسیڈنٹ” کو کانز فلم فیسٹیول میں پام ڈی آر ایوارڈ ملا اور اسے فرانس کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین بین الاقوامی فیچر کے زمرے میں آسکر کے لیے نامزد کیا گیا۔ سزا کے وقت پناهی ایران سے باہر اسی فلم کی تشہیر کر رہے تھے۔
ماضی کی سزائیں اور حراستیں
پناهی کو ماضی میں بھی متعدد بار گرفتار اور قید کیا گیا۔ 2020 میں انہیں چھ سال قید کے ساتھ ساتھ بیس سال تک فلم سازی، اسکرین رائٹنگ اور بیرون ملک سفر پر پابندی کی سزا دی گئی تھی۔
- جولائی 2022 میں انہیں یہ سزا کاٹنے کے لیے گرفتار کر کے ایون جیل منتقل کیا گیا۔
- سات ماہ قید کے بعد فروری 2023 میں انہیں رہا کر دیا گیا۔
- دسمبر 2025 میں فلم ساز کو “نظام کے خلاف پروپیگنڈہ سرگرمی” کے الزام میں ایک سال قید اور اضافی تعزیری اقدامات کی سزا سنائی گئی، جسے اپیل کے بعد انقلابی عدالت نے برقرار رکھا۔
بین الاقوامی اعزازات
ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل تنازعات کے باوجود پناهی فلم سازی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی فلم “دی وائٹ بیلون” نے 1995 میں کانز فلم فیسٹیول میں کیمرہ ڈی آر جیتا، “دی سرکل” نے 2000 میں وینس میں گولڈن لائن حاصل کیا، جبکہ “ٹیکسی” نے 2015 میں برلن میں گولڈن بیئر ایوارڈ جیتا۔
