اسلام آباد: قومی ایئرلائن پی آئی اے کی بین الاقوامی فضاؤں میں واپسی کا سفر ایک اور اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں لندن کے لیے ہفتہ وار پروازوں کی تعداد سات تک بڑھا دی گئی ہے جبکہ یکم دسمبر سے برمنگھم کے لیے براہِ راست فضائی آپریشنز بھی بحال کیے جا رہے ہیں۔
بوئنگ 787 ڈریم لائنر کا پہلی بار استعمال
پی آئی اے نے ایک اور سنگِ میل عبور کر لیا ہے اور پہلی بار بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارہ فضائی آپریشنز کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں قائم کنسورشیم نے 29 جون 2026 کو قومی ایئرلائن کا چارج سنبھالا تھا، اور اس کے بعد سے انقلابی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ چھ سالہ پابندیوں سے لے کر روزانہ پروازوں تک، قومی ایئرلائن نے یہ سفر کامیابی سے طے کیا ہے۔
نئے شیڈول کی تفصیلات
نئے شیڈول کے تحت اسلام آباد سے پانچ اور لاہور سے دو پروازیں لندن کے لیے روانہ ہوں گی، جس سے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان فضائی رابطہ اب روزانہ کی بنیاد پر دستیاب ہو گا اور مسافروں کو سفر کی منصوبہ بندی میں زیادہ سہولت اور انتخاب میسر آئے گا۔
قومی ایئرلائن یکم دسمبر سے برمنگھم کے لیے بھی براہِ راست پروازیں شروع کرنے جا رہی ہے، جس سے برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کو اپنے وطن کے سفر میں سہولت ہو گی۔
پروازوں میں یہ اضافہ محض ایک نئے شیڈول کا اعلان نہیں بلکہ عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں کنسورشیم کے انقلابی اقدامات کا نتیجہ ہے۔
ماضی کے بحران اور پابندیوں کی تاریخ
22 مئی 2020 کو پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 کراچی میں حادثے کا شکار ہوئی جس میں ستانوے افراد جان سے گئے۔ اس المناک حادثے کے بعد پاکستان کے ہوابازی نظام اور حفاظتی انتظامات پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے۔
صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب اس وقت کے وزیرِ ہوابازی نے پارلیمنٹ میں پاکستانی پائلٹس کے لائسنسز پر شکوک کا اظہار کیا، ایسی انکشافات نے بین الاقوامی ہوابازی اداروں میں مزید تشویش کو ہوا دی۔
جون 2020 میں یورپی یونین کی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پی آئی اے کے یورپ کے لیے پروازی اجازت نامے معطل کر دیے، جبکہ برطانوی حکام نے بھی پاکستانی ایئرلائنز پر پابندیاں عائد کیں۔ ان اقدامات کا پس منظر پائلٹس کے لائسنسز کی تصدیق، سول ایوی ایشن کی نگرانی کے نظام اور فضائی حفاظتی معیارات پر تحفظات پر مشتمل تھا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ قومی ایئرلائن کے برطانیہ اور یورپ کی اہم فضائی منڈیاں طویل عرصے تک بند رہیں، مسافروں کو متبادل ایئرلائنز اور دیگر فضائی راستوں کا رخ کرنا پڑا، جبکہ پی آئی اے کو اپنے بین الاقوامی نیٹ ورک اور آمدنی میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
پابندیوں کے خاتمے کا سفر
پابندیوں کے خاتمے کے لیے پاکستان کو ہوابازی کے حفاظتی نظام میں اصلاحات، پائلٹ لائسنسنگ کے طریقہ کار کی بہتری اور نگرانی کے معیارات کو مضبوط بنانے پر کام کرنا پڑا۔ نومبر 2024 میں یورپی یونین نے پی آئی اے پر عائد پابندی اٹھا لی۔
جولائی 2025 میں برطانیہ نے پاکستان کو اپنی فضائی حفاظتی فہرست سے خارج کر دیا، جس نے پاکستانی ایئرلائنز کے لیے برطانیہ کے لیے آپریشنز کی راہ ہموار کی۔ اس پیش رفت کے بعد پی آئی اے نے مارچ 2026 میں لندن کے لیے براہِ راست پروازیں بحال کیں۔
29 مارچ کو اسلام آباد سے ہیتھرو کے لیے پرواز روانہ ہوئی، جبکہ اگلے دن لاہور سے بھی براہِ راست فضائی رابطہ قائم کیا گیا، اس طرح برسوں کے وقفے کے بعد قومی ایئرلائن کا لندن واپس آنا ممکن ہوا، اور اب پروازوں کی تعداد میں اضافہ اس بحالی کے سفر کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔
عالمی مارکیٹ میں پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش
انتظامیہ بھی قومی ایئرلائن کی ساکھ بحال کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ پی آئی اے کے لیے لندن کے لیے پروازوں میں اضافہ اور برمنگھم کے لیے آپریشنز کی بحالی محض فضائی رابطوں کی توسیع نہیں بلکہ عالمی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش بھی ہے۔
