لاہور: شہر بھر میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور مجموعی فضائی معیار کا اشاریہ (اے کیو آئی) 253 ریکارڈ کیے جانے کے بعد لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سرفہرست آ گیا ہے۔
محکمہ موسمیات اور عالمی فضائی نگرانی کے نظام کے مطابق شہر کے متعدد علاقوں میں آلودگی کی سطح تشویشناک حد تک بلند ہے، جہاں شہریوں کو سانس کی بیماریوں اور دیگر صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔
سب سے زیادہ متاثرہ علاقے
شہر کے مختلف علاقوں میں ریکارڈ کیے گئے فضائی معیار کے اشاریے کی تفصیل درج ذیل ہے:
- برکی روڈ اور گرد و نواح: 520 (سب سے زیادہ آلودہ)
- گلبرگ: 457
- گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے اطراف: 392
- سمن آباد: 363
- ڈیفنس: 332
- ماڈل ٹاؤن: 324
- اقبال ٹاؤن: 304
- اچھرہ اور گرد و نواح: 281
ہوا کے رخ اور رفتار
عالمی فضائی نگرانی کے نظام کے مطابق لاہور میں شمال مغرب سے 8 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں، جس سے آلودگی کے ذرات شہر میں پھیل رہے ہیں اور صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔
ماہرین صحت کی ہدایات
طبی ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فضائی آلودگی کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ:
- غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں
- باہر نکلتے وقت ماسک کا استعمال لازمی کریں
- گھروں اور دفاتر میں کھڑکیاں اور دروازے بند رکھیں
- سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد خصوصی احتیاط برتیں
واضح رہے کہ اسموگ اور فضائی آلودگی کے باعث لاہور میں ہر سال سردیوں کے آغاز پر صحت عامہ کے سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں، اور ماہرین نے موجودہ صورتحال کو شہریوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
