اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ صدارتی بیان متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے جس میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ مسلح تصادم شروع ہونے کے بعد بھی سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں، جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے، کشیدگی میں کمی لائی جائے اور دیرپا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔
«فعال دشمنی کے دوران سفارت کاری کا کردار» کے عنوان سے یہ بیان سلامتی کونسل کے صدر کی حیثیت سے لٹویا کی سفیر سانتا پاولوتا-ڈیلینڈس کی زیر صدارت منظور کیا گیا۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جنگ کے دوران سفارتی مصروفیت شہریوں کے تحفظ، تشدد کو محدود کرنے، تنازعات کو مزید پھیلنے سے روکنے اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہے۔
جنگ شروع ہونے پر سفارت کاری ختم نہیں ہونی چاہیے: پاکستان کا موقف
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر سید حیدر شاہ نے اس بیان کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تنازعات کے پرامن حل کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے بیان کی منظوری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس صدارتی بیان کا پیغام سادہ مگر پُراثر ہے کہ دشمنی شروع ہونے سے سفارت کاری ختم نہیں ہوتی بلکہ اس وقت تو یہ مزید ناگزیر ہو جاتی ہے۔
قرارداد 2788 پر مبنی پاکستانی پہل
یہ پاکستانی اقدام سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 پر استوار ہے جو جولائی 2025 میں پاکستان کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی اور جس میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت کو دہرایا گیا تھا۔ جبکہ سابقہ قرارداد تنازعات کے پرامن تصفیے پر مرکوز تھی، تازہ بیان خاص طور پر مسلح تصادم شروع ہونے کے بعد سفارتی رابطے برقرار رکھنے کی ضرورت پر روشنی ڈالتا ہے، یعنی ایسے وقت میں جب فریقین کے درمیان رابطہ اکثر منقطع ہو جاتا ہے اور کشیدگی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔
سلامتی کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات میں ملوث فریقین کے درمیان براہ راست یا ثالثوں کے ذریعے رابطے کے راستے کھلے رکھے جائیں تاکہ غلط فہمیوں کو روکا جا سکے، کشیدگی کم ہو اور سیاسی مذاکرات کی راہ ہموار ہو۔
بیان کے اہم نکات
- فعال دشمنی کے دوران سفارت کاری کے کلیدی اہداف میں جنگ بندی کو یقینی بنانا، محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی رسائی، شہریوں کا تحفظ اور تنازعات کو علاقائی یا بین الاقوامی تصادم میں بدلنے سے روکنا شامل ہے۔
- جنگ بندی کو سفارتی کوششوں کا اختتام نہیں سمجھا جائے بلکہ دیرپا حل کے لیے سیاسی مصروفیت جاری رکھی جائے۔
- اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور مسلح تصادم کو پرامن حل میں بدلنے کے لیے ثالثی اور سفارتی اقدامات کریں۔
- علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی ثالثی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور اقوام متحدہ کے ساتھ قریبی تعاون کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
- اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، ان کے نمائندوں، خصوصی ایلچیوں اور ثالثوں کے کردار کو اجاگر کیا گیا جو مسلح تصادم سے قبل اور دوران مکالمے اور پرامن تصفیے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔
- تمام سفارتی اقدامات کو اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
بیان میں عالمی عدالت انصاف سمیت اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کے کردار کو بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ وہ ان تنازعات کے پرامن حل میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں جن میں ریاستیں اس کے دائرہ اختیار کو تسلیم کر چکی ہیں۔ سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر بھی زور دیا کہ وہ سفارت کاری، ثالثی اور تنازعات کے پرامن حل کو فروغ دیتے رہیں اور متعلقہ کوششوں سے کونسل کو بروقت آگاہ کرتے رہیں۔
بین الاقوامی سفارت کاری کے لیے سیاسی حوالہ
سفیر سید حیدر شاہ نے کہا کہ اس بیان کی منظوری نے سلامتی کونسل کے انفرادی تنازعات سے نمٹنے کے تجربے کو ایک مشترکہ فریم ورک میں یکجا کر دیا ہے جو جاری اور آئندہ تنازعات میں سفارتی کوششوں کے لیے ایک سیاسی حوالہ فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل کثیرالجہتی، مکالمے اور بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کا عکاس ہے۔
