پشاور: خیبر پختونخوا میں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم قانونی عمر 16 سے بڑھا کر 18 سال کرنے کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ یہ درخواست دو کم عمر لڑکیوں نے دائر کی ہے جو بچوں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہیں۔
درخواست گزاروں کی دلیل
درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ خیبر پختونخوا پاکستان کا واحد صوبہ ہے جہاں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم قانونی عمر اب بھی 16 سال ہے، جبکہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان اس عمر کی حد کو 18 سال تک بڑھا چکے ہیں۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ صوبائی حکومت کو ہدایت دی جائے کہ وہ کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے ضروری قانون سازی کرے اور مؤثر اقدامات اٹھائے تاکہ صوبے میں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم قانونی عمر 18 سال مقرر کی جا سکے۔
گزشتہ دو دہائیوں کے وعدے اور قانون سازی
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران متعدد وعدوں اور اعلانات کے باوجود خیبر پختونخوا میں کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی نہیں کی گئی۔
یونیسف کے اعداد و شمار
درخواست میں یونیسف کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں تقریباً 21 فیصد لڑکیوں کی شادی 18 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہو جاتی ہے۔ ایسی شادیوں کے ان کی تعلیم، صحت، تحفظ اور مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
درخواست میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ کم عمری کی شادیوں کی روک تھام اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی ناگزیر ہے۔
صوبائی قانون میں موجودہ صورتحال
- خیبر پختونخوا: لڑکیوں کی شادی کی کم از کم قانونی عمر 16 سال
- پنجاب: کم از کم قانونی عمر 18 سال
- سندھ: کم از کم قانونی عمر 18 سال
- بلوچستان: کم از کم قانونی عمر 18 سال
واضح رہے کہ یہ درخواست ایسے وقت میں دائر کی گئی ہے جب ملک بھر میں کم عمری کی شادیوں کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے اسے لڑکیوں کی تعلیم اور صحت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہیں۔ عدالت نے ابھی اس درخواست پر سماعت کا شیڈول جاری نہیں کیا۔
