geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
July 25, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Why You Must Shower After Swimming, Per Dermatologistsسمندر یا پول میں تیراکی کے بعد نہانا محض صفائی نہیں، طبی ماہرین نے لازمی قرار دے دیا
    • US and Iran Halt Fire Again in Ormuz Strait Standoffآبنائے ہرمز پر دشمنی کا نیا خاتمہ، بحری آمد و رفت بحال؛ قطر میں تکنیکی مذاکرات متوقع
    • Heatwave Survival Guide for Summer Travelersگرمی کی لہر میں سفر: ماہرین کی انتباہات اور چھٹیاں محفوظ بنانے کے 7 سنہری اصول
    صحت و تندرستی
    • Why You Must Shower After Swimming, Per Dermatologistsسمندر یا پول میں تیراکی کے بعد نہانا محض صفائی نہیں، طبی ماہرین نے لازمی قرار دے دیا
    • France Braces for New Heatwave with Temperatures Soaring to 42°Cفرانس میں نئی قیامت خیز گرمی کی لہر، درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان
    • WMO Warns Strong El Niño to Develop Rapidly by Fallال نینو ستمبر تک طاقتور صورت اختیار کر لے گا، عالمی ادارے کی شدید موسم کی وارننگ
    دلچسپ اور عجیب
    • فرانس میں تاریخی قدم: بچوں کے ویڈیو گیم ‘پاپینز’ کی قیمت سوشل سیکیورٹی سے ادا کرنے کی سفارش
    • Southern France on Red Alert as Wildfire Danger Peaksفرانس میں جنگلات کی آگ کا ریڈ الرٹ: چھ اضلاع انتہائی خطرے کی زد میں، تیز ہوائیں پریشانی کا باعث
    • Wikipedia Founder Rejects AI for Article Editingوکیپیڈیا کے شریک بانی کا اے آئی ایڈیٹنگ کو مسترد کرنے کا اعلان، ’ہیلوسینیشنز‘ کو سنگین مسئلہ قرار دے دیا
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Meta Smart Glasses: The Hidden Privacy Threat in Plain Sightمیٹا اسمارٹ گلاسز: فیشن ایبل چشمہ یا پوشیدہ نگرانی کا جدید ہتھیار؟
    • Google Launches AI Search Summaries in Franceگوگل نے فرانس میں اے آئی سرچ کا نیا انجن لانچ کر دیا: اب لنک پر کلک کیے بغیر ہی ملے گا جواب
    • France Bans Social Media for Under 15s From Sept 1فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا قانون منظور: کیا یہ واقعی قابلِ عمل ہے؟
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

افغانستان پر حکومت کی علامت، کابل کے صدارتی محل پر اب طالبان کا پرچم

September 12, 2021 2 1 min read
Flag
Share this:

Flag

کابل (اصل میڈیا ڈیسک) افغانستان پر اپنے اقتدار کی علامت کے طور پر طالبان نے امریکا پر نائن الیون کے دہشت گردانہ حملوں کی بیسیویں برسی کے موقع پر کل ہفتے کے روز کابل میں واقع افغان صدارتی محل پر اپنا پرچم لہرا دیا۔

یہ پرچم کشائی طالبان کی عبوری حکومت کے وزیر اعظم ملا محمد حسن اخوند نے ایک سادہ تقریب میں کی۔ طالبان کے ثقافتی کمیشن کے سربراہ احمداللہ متقی نے نیوز ایجنسی اے پی کو بتایا کہ پرچم کشائی کی اس تقریب کے ساتھ ہی نئی حکومت کے کام کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔

صرف مردوں پر مشتمل طالبان کی عبوری حکومت میں شامل وزراء کے ناموں کا اعلان اسی ہفتے کیا گیا تھا۔ عالمی سطح پر طالبان کی اعلان کردہ عبوری کابینہ کی ہیئت پر مایوسی کا اظہار کیا گیا تھا۔ کئی ممالک کو توقع تھی کہ ماضی کے برعکس طالبان اس مرتبہ اعتدال پسندانہ رویہ اپنائیں گے۔

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے ایک ٹویٹ میں ملک میں امن و استحکام کا مطالبہ کیا اور توقع کی کہ کابل میں عبوری کابینہ، جس میں نہ خواتین شامل ہیں اور نہ ہی طالبان کے علاوہ کسی گروپ سے کوئی شخصیت، ایک ایسی حکومت بن سکے گی جو پورے افغانستان کی نمائندگی کرے۔ نائن الیون حملوں کی بیسویں برسی کے موقع پر سابق صدر حامد کرزئی نے کابل میں اپنے گھر میں ہی قبائلی رہنماؤں سے ملاقات کی۔

بیس سال پہلے طالبان افغانستان پر قابض تھے۔ وہ انتہائی سخت قوانین کے تحت ملک کا انتظام سنبھالے ہوئے تھے۔ ان کے گزشتہ دور حکومت میں ٹیلی وژن پر بھی پابندی تھی۔ نائن الیون حملوں کی خبر اس ملک میں ریڈیو کے ذریعے پہنچی تھی۔ اس وقت کابل شہر کے کئی علاقوں میں بجلی کی سہولت بھی دستیاب نہیں تھی اور شہر کی آبادی تقریباﹰ دس لاکھ تھی۔

امریکا اور اس کے اتحادیوں نے نائن الیون حملوں کے بعد افغانستان پر حملہ کر دیا تھا۔ امریکا کے مطابق طالبان نے ان حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے اس وقت کے سربراہ اسامہ بن لادن کو پناہ دے رکھی تھی۔ تب امریکا اور اس کے اتحادیوں نے بہت مختصر عرصے میں طالبان کو فوجی شکست دے دی تھی۔

یہ تصویر سن 1962 میں لی گئی تھی۔ اس میں کابل یونیورسٹی کی میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس وقت خواتین افغان معاشرے میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔ خواتین کو تعلیمی سہولیات میسر تھیں اور وہ گھروں سے باہر نکل کر کام کر سکتی تھیں۔

آج بیس سال بعد طالبان افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آ چکے ہیں۔ امریکی فوجی دستے اس ملک سے رخصت ہو چکے ہیں۔ اب طالبان پچاس لاکھ کی آبادی والے شہر کابل میں اپنی حکمرانی کا مظاہرہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ایسے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جو ثابت کرتے ہیں کہ طالبان اب بھی سخت گیر نظریات کے حامل ہیں۔ انہوں نے صحافیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور خواتین کو بھی مارا پیٹا۔

مارزیا حمیدی تائیکوانڈو کی کھلاڑی ہیں، جو عالمی سطح پر افغانستان کی نمائندگی کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کی واپسی نے ان کے خوابوں کو قتل کر دیا ہے۔ حمیدی کے مطابق خواتین کے احتجاج کے دوران طالبان نے انہیں بھی نشانہ بنایا۔ وہ کہتی ہیں، ”مجھے امریکا کے یہاں سے نکل جانے پر حیرانی نہیں۔ وہ یہاں اپنے مفاد کے لیے آئے تھے۔‘‘ حمیدی امید کرتی ہیں کہ طالبان اپنی متعارف کردہ سختیوں میں نرمی لائیں گے۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی سمجھتی ہیں کہ زیادہ تر افغان مرد طالبان کے خیالات سے متفق ہیں۔

کل ہفتے کے روز طالبان کی طرف سے ایسی خواتین کے ایک مارچ کا اہتمام کیا گیا، جو ان کی حامی تھیں اور خود بھی مکمل برقعوں میں تھیں۔ ان خواتین کو کابل یونیورسٹی کے ایک ہال میں بٹھایا گیا اور طالبان کی جانب سے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی کہ مغرب نے گزشتہ بیس برسوں میں ملکی خواتین کی خود مختاری کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ اس تقریب میں خواتین مقررین کی جانب سے طالبان کے حق میں گفتگو کی گئی اور ان کی فتح کا جشن منایا گیا۔

اس موقع پر اس یونیورسٹی ہال کے باہر موجود ہائر ایجوکشن کے لیے طالبان کے ڈائریکٹر محمد داؤد حقانی کا کہنا تھا، ”نائن الیون وہ دن تھا، جب دنیا نے ہمارے خلاف پروپیگنڈا کرنا شروع کیا اور ہمیں امریکا پر حملوں کا ذمہ دار قرار دے کر دہشت گرد کہا گیا تھا۔‘‘

Share this:
World Trade Center Attack
Previous Post امریکا نے 9/11 کی تحقیقات کا FBI کا پہلا مسودہ جاری کر دیا
Next Post انسانی جوہر کی نمود
Maulana Jalaluddin Rumi

Related Posts

Meta Smart Glasses: The Hidden Privacy Threat in Plain Sight

میٹا اسمارٹ گلاسز: فیشن ایبل چشمہ یا پوشیدہ نگرانی کا جدید ہتھیار؟

July 23, 2026
Google Launches AI Search Summaries in France

گوگل نے فرانس میں اے آئی سرچ کا نیا انجن لانچ کر دیا: اب لنک پر کلک کیے بغیر ہی ملے گا جواب

July 23, 2026
Wildfire Near Arcachon Forces 20,000 Evacuations

آرکاشوں کے قریب جنگل کی ہولناک آگ: 24 گھنٹوں میں 20 ہزار افراد کا انخلاء، 2400 ہیکٹر رقبہ خاکستر

July 23, 2026
DZ Mafia Denies Targeting Mayor in Video

ڈی زیڈ مافیا کی ویڈیو جاری، میئر کو دھمکیوں سے لاتعلقی کا اعلان: “ہمارے کاروبار کو نقصان پہنچ رہا ہے”

July 23, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.