لندن: طبی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود، ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ چاٹ جی پی ٹی اور اس جیسے دیگر جدید اے آئی ماڈلز اصل مریضوں کی علامات کی بنیاد پر درست تشخیص کرنے میں ناکام ہیں۔ ’نیچر میڈیسن‘ جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، یہ اے آئی ٹولز روایتی انٹرنیٹ سرچ سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔
تحقیق کا طریقہ کار اور اہم نتائج
آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین کی زیر نگرانی کی گئی اس تحقیق میں برطانیہ کے 1,300 رضاکاروں نے حصہ لیا۔ شرکاء کو دس مختلف اقسام کی علامات کے سیٹ دیے گئے، جن کا طبّی حلقوں میں واضح تشخیص موجود تھی۔ شرکاء کو چاٹ جی پی ٹی، میٹا کا لاما، اور کمانڈ آر پلس جیسے اے آئی ماڈلز استعمال کرنے یا پھر عام انٹرنیٹ سرچ انجن پر انحصار کرنے کا کہا گیا۔
نتائج نے واضح کیا کہ اے آئی ماڈلز کی مدد سے صرف ایک تہائی شرکاء ہی درست تشخیص تک پہنچ سکے۔ یہ شرح ان لوگوں کے گروپ جتنی ہی تھی جنہوں نے صرف انٹرنیٹ سرچ کا سہارا لیا تھا۔
اے آئی کی طبّی حدود کا اعتراف
تحقیق کی شریک مصنفہ اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی محقق ربیکا پین نے ایک بیان میں کہا، ’’مصنوعی ذہانت کے گرد موجودہ جنون کے باوجود، یہ ٹولز فی الحال کسی ماہر ڈاکٹر کی جگہ لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ چاٹ جی پی ٹی نے طبّی امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے، لیکن حقیقی مریضوں کے ساتھ بات چیت اور پیچیدہ علامات کی تشریح کرنا ایک بالکل مختلف چیلنج ہے۔
مستقبل کے لیے اشارے
یہ تحقیق ایک اہم نکتہ واضح کرتی ہے: مصنوعی ذہانت فی الحال انسانی تجربے، ہمدردی، اور کلینیکل فیصلہ سازی کی پیچیدگیوں کا متبادل نہیں بن سکتی۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ اے آئی کو ڈاکٹروں کے لیے ایک معاون ٹول کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس کی حدود کو سمجھا جائے اور اس پر اندھا اعتماد نہ کیا جائے۔
- تحقیق میں 1,300 برطانوی رضاکاروں نے حصہ لیا۔
- اے آئی ماڈلز کی درستگی کی شرح محض 33 فیصد رہی۔
- یہ کارکردگی عام انٹرنیٹ سرچ کے برابر ہے۔
- ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ڈاکٹر کا متبادل نہیں، معاون آلہ ہو سکتی ہے۔
طبّی شعبے میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے انضمام کے اس دور میں، یہ تحقیق مصنوعی ذہانت کے حوالے سے احتیاط اور انسانی نگرانی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
