مظفرآباد (ڈیلی پاکستان آن لائن): آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے 202 کے عام انتخابات کے تیسرے مرحلے کے شیڈول میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے پونچھ اور سدھنوتی اضلاع میں پولنگ ملتوی کر دی ہے۔ یہ فیصلہ موجودہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
اصل شیڈول کے مطابق 10 اگست کو پونچھ ڈویژن کے چار اضلاع کی 11 نشستوں پر ووٹنگ ہونی تھی۔ تاہم، الیکشن کمیشن کے مطابق اب تیسرے مرحلے کی پولنگ صرف باغ اور حویلی اضلاع میں ہی منعقد ہوگی، جبکہ پونچھ اور سدھنوتی کے تمام حلقوں میں انتخابات مؤخر کر دیے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ نظرثانی شدہ شیڈول سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر جاری کیا گیا ہے۔ ملتوی شدہ حلقوں کے لیے نئی پولنگ تاریخ کا اعلان حالات کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر عام انتخابات کے پہلے اور دوسرے مرحلے بالترتیب 27 جولائی اور 2 اگست کو میرپور اور مظفرآباد ڈویژنز میں منعقد ہوئے تھے۔
غیر سرکاری نتائج میں مسلم لیگ (ن) کی برتری
دوسری جانب، غیر سرکاری اور غیر تصدیق شدہ نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) انتخابات میں سب سے آگے نظر آ رہی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی نے سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے اور آزاد کشمیر میں اگلی حکومت بنانے کے لیے تیار ہے۔
دوسرے مرحلے کی پولنگ 21 حلقوں میں ہوئی، جن میں مظفرآباد ڈویژن کی 9 نشستیں اور پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے 12 مخصوص نشستیں شامل تھیں۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے 15 اور پاکستان پیپلز پارٹی نے 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔
پہلے مرحلے میں بھی، عارضی اور غیر سرکاری نتائج کے تحت مسلم لیگ (ن) نے 9 اور پیپلز پارٹی نے 4 حلقوں میں کامیابی سمیٹی تھی۔
دھاندلی کے الزامات اور سیاسی ردعمل
دونوں مراحل کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے دھاندلی اور تشدد کے الزامات سامنے آئے۔ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابات کو نہ آزادانہ اور نہ ہی منصفانہ قرار دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا۔
دوسری طرف، مسلم لیگ (ن) نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ رانا ثناءاللہ نے پیپلز پارٹی کو چیلنج کیا کہ وہ الیکشن کمیشن کے سامنے شواہد پیش کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھاندلی کے الزامات کو سیاسی دعوؤں کی بجائے ثبوتوں سے ثابت کیا جانا چاہیے۔
