مظفر آباد: آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات کے تیسرے مرحلے کے لیے باغ اور حویلی اضلاع کے چار حلقوں میں پولنگ کا آغاز ہو چکا ہے، جہاں 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔
الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔ تیسرے مرحلے میں شامل حلقوں میں ایل اے 14، ایل اے 15، ایل اے 16 اور ایل اے 17 شامل ہیں، جہاں مجموعی طور پر 82 امیدوار میدان میں ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلے کا امکان
ان حلقوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کے مطابق پونچھ اور سدھنوتی اضلاع کے حلقوں میں پولنگ ملتوی کر دی گئی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے 2026 کے عام انتخابات کے تیسرے مرحلے کے شیڈول پر نظرثانی کرتے ہوئے موجودہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر پونچھ اور سدھنوتی اضلاع میں پولنگ مؤخر کر دی ہے۔
اصل شیڈول کے تحت 10 اگست کو پونچھ ڈویژن کے چار اضلاع کی 11 نشستوں پر پولنگ ہونا تھی، تاہم اب تیسرے مرحلے کی ووٹنگ صرف باغ اور حویلی اضلاع میں ہو رہی ہے۔
پہلے دو مراحل میں مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل
یاد رہے کہ آزاد کشمیر عام انتخابات کے پہلے اور دوسرے مراحل بالترتیب 27 جولائی اور 2 اگست کو میرپور اور مظفر آباد ڈویژنز میں منعقد ہوئے تھے۔ غیر سرکاری اور غیر تصدیق شدہ نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) سب سے آگے ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے اور آزاد کشمیر میں اگلی حکومت بنانے جا رہی ہے۔ دوسرے مرحلے میں 21 حلقوں پر پولنگ ہوئی تھی، جس میں مظفر آباد ڈویژن کی 9ستیں اور پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی 12 مخصوص نشستیں شامل تھیں۔
غیر سرکاری نتائج میں مسلم لیگ (ن) نے 15 اور پیپلز پارٹی نے 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ پہلے مرحلے کے غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے 9 اور پیپلز پارٹی نے 4 حلقوں میں کامیابی سمیٹی تھی۔
پیپلز پارٹی کی دھاندلی کے الزامات، مسلم لیگ (ن) کا مسترد
دونوں مراحل کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے دھاندلی اور تشدد کے الزامات لگائے گئے۔ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابات کو نہ آزادانہ اور نہ منصفانہ قرار دیتے ہوئے وسیع پیمانے پر بے ضابطگیوں کا دعویٰ کیا۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کو چیلنج کیا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کے سامنے شواہد پیش کرے۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ دھاندلی کے الزامات سیاسی دعووں کی بجائے ثبوتوں پر مبنی ہونے چاہئیں۔
