چینی کمپنی علی بابا نے اپنی نئی مصنوعی ذہانت کے ماڈل Qwen 2.5 Max کا تعارف کرایا ہے، جسے ChatGPT اور DeepSeek جیسے حریفوں پر فوقیت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام چین کے عالمی مصنوعی ذہانت کے بازار میں اپنی حیثیت کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
علی بابا کی کلاؤڈ ڈویژن نے Qwen 2.5 Max کو متعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ ماڈل OpenAI کے GPT-4o، DeepSeek-V3 اور Meta کے Llama-3.1-405B جیسے معروف ماڈلز کی کارکردگی کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ کمپنی کے مطابق، اس نئے ماڈل کی قابلیت اور کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جو اسے اوپن سورس مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک رہنما کے طور پر پیش کرتا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب DeepSeek، جو کہ صرف بیس ماہ قبل ہانگژو میں قائم ہوا، نے اپنے جدید ماڈلز کے ذریعے بازار کی توجہ حاصل کی ہے۔ DeepSeek-V3 اور R1 ماڈلز کی کامیابی نے سلیکون ویلی میں ہلچل پیدا کی ہے اور ٹیکنالوجی کی اسٹاک کی قیمتوں پر اثر ڈالا ہے۔
چینی مارکیٹ میں قیمتوں کی جنگ بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ DeepSeek نے اپنے ماڈل V2 کے لیے صرف 1 یوان (تقریباً 0.14 ڈالر) فی ملین ٹوکن کی قیمت متعارف کرائی، جس نے علی بابا، ٹینسینٹ اور بیدو جیسے بڑے کھلاڑیوں کو اپنی قیمتوں کی حکمت عملیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے تاکہ وہ مسابقتی رہ سکیں۔
علی بابا کی کلاؤڈ ڈویژن نے DeepSeek کے دباؤ کا جواب دیتے ہوئے بعض ماڈلز کی قیمتوں میں 97 فیصد تک کمی کی ہے، جو کہ مارکیٹ میں حصہ داری کے حصول کے لیے سخت مقابلے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ قیمتوں کی جنگ نہ صرف مالی اثرات کے ساتھ جڑی ہوئی ہے بلکہ یہ مستقبل کی ٹیکنالوجیز کی ترقی اور ان کے مختلف شعبوں تک رسائی پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔
علی بابا اور DeepSeek جیسے ادارے مسلسل نئی ٹیکنالوجیز متعارف کروا رہے ہیں، جس سے عالمی مصنوعی ذہانت کا منظرنامہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ Qwen 2.5 Max کا تعارف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس شعبے میں تیز رفتار اور موثر جدت کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔
یہ مضمون علی بابا کی جانب سے Qwen 2.5 Max کے متعارف ہونے کے ساتھ ہی مصنوعی ذہانت کے میدان میں کارکردگی اور قابلیت کے نئے معیارات کی تشکیل کی جانب اشارہ کرتا ہے، جو نہ صرف علی بابا کے لیے ایک سنگ میل ہے بلکہ صنعت کے دیگر بڑے کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔
