ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف نیب کا بڑا ریفرنس، 700 ارب روپے کا نقصان کا الزام
کراچی: قومی احتساب بیورو (نیب) نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض، ان کے صاحبزادے اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سمیت 33 افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طریقے سے بحریہ ٹاؤن کراچی کے لئے زمین پر قبضہ کرکے قومی خزانے کو 700 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا۔
نیب کے چئیرمین لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد کی منظوری کے بعد یہ ریفرنس کراچی کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا ہے، جہاں عدالت نے اس کو سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے تمام ملزمان کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ یہ کارروائی 2015 کے آخر میں شروع ہونے والی انکوائری کا نتیجہ ہے، جسے بعد میں تحقیقات میں تبدیل کیا گیا۔
ملک ریاض نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں گواہی دینے کے لئے بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے دبئی میں شروع کردہ نئے پراجیکٹ کے لئے رقم کی منتقلی منی لانڈرنگ کے ذریعے کی گئی ہے۔
نیب کی جانب سے دائر کردہ ریفرنس میں یہ کہا گیا ہے کہ ملک ریاض اور دیگر ملزمان نے مختلف قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کے نام پر زمین کی غیر قانونی منتقلی کی۔ 2013 میں سندھ اسمبلی سے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے اس عمل کی بنیاد رکھی گئی، جس کے چھ روز بعد ہی بحریہ ٹاؤن نے ملیر میں ہاؤسنگ پراجیکٹ کا اعلان کیا۔
نیب کے مطابق، بحریہ ٹاؤن کے نام زمین کی منتقلی کے لئے سابق وزیر بلدیات شرجیل انعام میمن اور سید قائم علی شاہ نے غیر قانونی طور پر سفارشات پیش کیں۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بحریہ ٹاؤن نے الاٹ کردہ زمین سے زیادہ اراضی پر تعمیرات کیں، جس پر عدالت نے ملک ریاض کو 460 ارب روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
ملک ریاض نے اپنے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ وہ حکومت کی بلیک میلنگ کے سامنے نہیں جھکیں گے اور اپنی بے گناہی کا دفاع کرتے رہیں گے۔ نیب نے ان کے خلاف شواہد اکٹھے کر لیے ہیں کہ انہوں نے مختلف مقامات پر بغیر اجازت نامے کے ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم کیں اور عوام سے اربوں روپے کا فراڈ کیا۔
اس وقت ملک ریاض دبئی میں مقیم ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اس وقت شروع ہوئیں جب ملک ریاض نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف گواہی دینے سے انکار کیا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ کیس 190 ملین پاؤنڈ کی منی لانڈرنگ سے متعلق ہے، جو برطانیہ نے ملک ریاض سے برآمد کرکے پاکستان واپس بھجوائی تھی۔
یہ صورت حال ملک ریاض کی کاروباری سرگرمیوں اور ان کے خلاف جاری تحقیقات پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔
