سوات میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے کشمیر امور و گلگت بلتستان امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے افراتفری کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے امن، ترقی اور خوشحالی کا واضح پیغام دیا ہے۔
پی ٹی آئی کے احتجاج کو عوامی حمایت نہ ملنے کا دعویٰ
امیر مقام نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال کو عوام کی حمایت حاصل نہیں ہوئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبے کے باشندے سیاسی تصادم کے بجائے ترقی کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام سیاسی طور پر باشعور ہیں اور انہوں نے اپنی ترجیحات واضح کر دی ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے اور عوام پریشانی کے بجائے ترقی چاہتے ہیں۔
پی ٹی آئی کی کارکردگی پر سخت تنقید
پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ پارٹی کو تین مرتبہ صوبے کی حکمرانی کا مینڈیٹ دیا گیا، لیکن وہ عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر سکی۔ ان کا الزام تھا کہ پی ٹی آئی کے دور میں بدعنوانی اور بدانتظامی حاوی رہی اور صوبے نے گزشتہ تیرہ برسوں میں نقصان اٹھایا۔
وفاقی حکومت کے اقدامات کو عوام کی پذیرائی
امیر مقام نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام وفاقی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔ انہوں نے صوبے کے باشندوں کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی گئی قربانیوں کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ ان خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
- عوام نے افراتفری کی سیاست مسترد کرتے ہوئے امن و ترقی کو ترجیح دی
- پی ٹی آئی کو تین بار مینڈیٹ ملا مگر عوامی توقعات پوری نہ کر سکی
- صوبے کے عوام دیرپا امن، معاشی ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں
- دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبے کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ صوبے کے عوام احتجاج اور سیاسی عدم استحکام کے بجائے دیرپا امن، معاشی ترقی اور خوشحالی کے خواہاں ہیں۔
