ہزاروں خواتین کی تشخیص میں تاخیر، نظام صحت پر شدید سوالات
سیویل: “انہوں نے مجھے کیوں بھلا دیا؟” یہ سوال 52 سالہ اینیبل کینو کا ہے جو چھاتی کے کینسر کا شکار ہیں۔ ان جیسی سینکڑوں خواتین اسپین کے جنوبی علاقے انڈالوسیا میں میموگرافی اسکریننگ کے باوجود مہینوں تک بے خبری میں کینسر کی شکار بنی رہیں۔
ایک سال بعد پتہ چلا مرض کا
انیبل کینو بتاتی ہیں: “میری میموگرافی کے تقریباً ایک سال بعد مجھے آپریشن کیا گیا۔ اگر یہ کام وقت پر ہوتا تو کیا ہوتا؟” نومبر 2023 میں انہوں نے میموگرافی کروائی تھی جس کے بعد انہیں بتایا گیا تھا کہ اگر پندرہ دن میں کوئی کال نہ آئے تو سب ٹھیک ہے۔ مہینے گزر گئے، کوئی خبر نہیں آئی، اور آخرکار ایک سال بعد ہونے والے چیک اپ میں ان کے کینسر کی تصدیق ہوئی۔
230 تصدیق شدہ کینسر کیسز
امامہ انڈالوسیا ایسوسی ایشن کے مطابق اب تک 4,000 خواتین نے رابطہ نہ ہونے کی شکایات درج کرائی ہیں۔ ان میں سے 230 خواتین میں کینسر کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ تین ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ تعداد عارضی ہے اور مزید بڑھ سکتی ہے۔
حکومتی ردعمل پر تنقید
علاقائی حکومت کا کہنا ہے کہ 2,317 خواتین فالو اپ کی کمی کا شکار ہیں، لیکن وہ کسی کینسر کیس یا ہلاکت کی تصدیق نہیں کرتی۔ مرکزی حکومت نے علاقائی حکام پر صحت کے شعبے کی نجکاری اور خدمات کی گراوٹ کا الزام عائد کیا ہے۔
مریضوں کی تکلیفیں
56 سالہ امپارو پیریز نے جون 2023 میں اسکریننگ کروائی تھی۔ مہینوں بعد انہیں معلوم ہوا کہ انہیں مزید ٹیسٹ کروانے کی ضرورت ہے، اور آخرکار فروری 2024 میں انہیں ڈبل میسٹکٹومی کروانی پڑی۔ ان کا کہنا ہے کہ “وقت کی اہمیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ اگر بروقت علاج ہوتا تو میں بہت سی تکلیفوں سے بچ سکتی تھی۔”
تحقیقات اور احتجاج
انڈالوسیا کی عدالت نے “صحت کی خدمات میں خامیوں” کے باعث تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ علاقائی حکومت نے 12 ملین یورو کا ہنگامی منصوبہ پیش کیا ہے اور کئی عہدیداروں کو استعفیٰ دینا پڑا ہے۔ تاہم عوامی غم و غصہ برقرار ہے اور آنے والے علاقائی انتخابات میں اس کے سیاسی اثرات ہو سکتے ہیں۔
رضاکاروں کا کردار
امامہ ایسوسی ایشن کی صدر اینجیلا کلیویرول کا کہنا ہے کہ “کوئی نہیں جانتا کہ اصل میں کیا ہوا۔ چاہے یہ غفلت ہو، لاپرواہی ہو یا نااہلی، نتیجہ ایک ہی ہے۔ اس معاملے نے انڈالوسیا کی عوامی صحت کی حالت کو بے نقاب کر دیا ہے۔”

