پیرس کی عدالت نے نئی گرفتاریوں کی تصدیق کی
پیرس کے تاریخی لوور میوزیم میں اکتوبر کے مہینے میں ہونے والی 88 ملین یورو کی تاریخی چوری کی تحقیقات میں منگل کے روز چار مزید افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پیرس کی چیف پراسیکیوٹر لور بیکو نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں دو مرد (38 اور 39 سال) اور دو خواتین (31 اور 40 سال) شامل ہیں جو تمام پیرس کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
چوری کا طریقہ کار
19 اکتوبر 2025 کو چوروں نے مزدوروں کی وردیاں پہن کر دن دہاڑے میوزیم میں داخل ہونے کے لیے الیکٹرک موورز کی سیڑھی کا استعمال کیا۔ انہوں نے ایک شیشہ توڑ کر اندر داخل ہو کر ڈسک گرائنڈر کے ذریعے شوکیس کاٹے اور شاہی تاج کے 88 ملین یورو کے قریب قیمتی جواہرات چرا لیے۔ یہ سارا عمل محض آٹھ منٹ میں مکمل ہوا۔
- چور موٹر سائیکلوں پر فرار ہوئے
- فرار کے دوران شہنشاہ نیپولین سوم کی اہلیہ کا تاج گر کر ٹوٹ گیا
- چوری شدہ جواہرات اب تک برآمد نہیں ہو سکے
پہلے سے زیر تفتیش ملزمان
اس سے قبل چار افراد کو عدالت کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے جن میں تین مرد (35، 37 اور 39 سال) شامل ہیں جن پر میوزیم میں داخل ہونے کا شبہ ہے، جبکہ ایک 38 سالہ خاتون پر معاونت کا الزام ہے۔
میوزیم کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان
یہ واقعہ دنیا بھر میں میوزیم کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑا سوالیہ نشان بنا ہے۔ فرانس کی کورٹ آف آڈٹ نے لوور میوزیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میوزیم نے “نمائشی اور پرکشش سرگرمیوں” کو سیکیورٹی پر ترجیح دی۔
تحقیقات جاری
کیس کی تحقیقات پیرس کی بریگیڈ ڈی ریپریشن ڈی بینڈیٹسم (BRB) اور ثقافتی اشیا کی غیرقانونی تجارت کے خلاف مرکزی دفتر (OCBC) کر رہے ہیں۔ صدر ایمانوئل میکرون نے اس سال کے شروع میں میوزیم کی جدید کاری کے لیے ایک بڑے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

