ENGLISHLUG: atif-aslam-independent-music-return-interview
پاکستان کے ممتاز گلوکار عاطف اسلم نے اپنے طویل موسیقی کے سفر، تخلیقی مشکلات، اپنے مشہور گانے “عادت” کے حقیقی مفہوم، نئے البم اور 18 برس بعد آزاد موسیقی میں واپسی کے فیصلے کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔
فنکاروں کے لیے تخلیقی جمود معمول کی بات ہے
ایک حالیہ انٹرویو میں عاطف اسلم نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی موسیقی چھوڑنے کے بارے میں نہیں سوچا۔ ان کے مطابق ذہنی خلا اور تخلیقی تھکن کا شکار ہونا کسی بھی فنکار کی زندگی کا ایک فطری حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ وقت ایسا آتا ہے جب انسان اپنے آپ کو خالی محسوس کرتا ہے اور سمجھ نہیں آتا کہ کیا لکھے۔ اس کے برعکس، کبھی کبھار خیالات خود بخود بہنے لگتے ہیں۔ عاطف کا ماننا ہے کہ یہ دونوں مراحل انتہائی اہم ہیں اور فنکاروں کو صبر سے کام لینا چاہیے۔
“عادت” صرف دل ٹوٹنے کا گانا نہیں
اپنے کامیاب ترین گانے “عادت” کے بارے میں بات کرتے ہوئے عاطف نے ایک عام غلط فہمی کا ازالہ کیا۔ انوں نے بتایا کہ زیادہ تر لوگ اسے صرف ہجر اور دل شکستگی سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ تاہم، اس گانے کا بنیادی خیال خود آگاہی اور اس حقیقت کے گرد گھومتا ہے کہ انسان کس طرح مختلف حالات کے مطابق خود کو ڈھالتا اور بدلتا رہتا ہے۔
نیا البم اور خود کی تلاش کا سفر
عاطف نے اپنے حال ہی میں ریلیز ہونے والے چوتھے اسٹوڈیو البم کے گانے “صبح آئے نہ” پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹریک اپنے باطن کو تلاش کرنے اور اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسے کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی زیادہ تر موسیقی ذاتی زندگی اور تجربات سے جنم لیتی ہے۔ انہیں گانے لکھنے کے لیے دوسروں کی زندگیوں سے متاثر ہونے کی ضرورتہیں پڑتی کیونکہ ان کے اپنے سفر نے انہیں سنانے کے لیے بے شمار کہانیاں دی ہیں۔
تجارتی موسیقی سے آزادی کی راہ
عاطف اسلم نے 18 سال بعد ایک آزاد البم ریلیز کرنے کی وجہ بھی بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسی موسیقی سے دور جانا چاہتے تھے جو زیادہ تر تجارتی مفادات کے تحت بنائی جاتی ہے۔ اس کے بجائے، وہ صرف اپنے لیے لکھنے اور دھنیں ترتیب دینے کی جڑوں کی طرف لوٹنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اس عمل کو “صفر پر واپسی” اور ایک ایسا نڈر موسیقار بننے سے تعبیر کیا جو بغیر کسی دباؤ کے تخلیق کرنا اور اپنی موسیقی جاری کرنا چاہتا ہے۔
مداحوں کی محبت اور حیران کن سفر
عاطف کے لیے اپنی جڑوں کی طرف واپسی کا مطلب ان لوگوں کی قدر کرنا بھی ہے جنہوں نے ان کے کیریئر میں ان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے بھارت میں ایک شو کے دوران ایک مداح کے ساتھ یادگار ملاقات کا واقعہ سنایا۔ وہ مداح تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے آیا تھا اور سڑک کنارے عینک فروخت کرکے روزی کماتا تھا۔ وہ عاطف کے لیے تحفے کے طور پر کچھ عینکیں بھی لایا تھا۔ اس مداح نے عاطف کو ایک ویڈیو بھی دکھائی جس میں وہ اپنے دوستوں، پوسٹرز اور کیک کے ساتھ ہر سال عاطف کی سالگرہ مناتا تھا۔ عاطف نے اسے مداحوں کی جانب سے ان کے لیے کیے گئے پیارے ترین اقدامات میں سے ایک قرار دیا۔
اپنی کامیابی پر نظر ڈالتے ہوئے عاطف نے اعتراف کیا کہ وہ اب بھی اس بات پر حیران ہیں کہ ان کا کیریئر کہاں سے کہاں تک پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی ایسے سفر کی توقع نہیں کی تھی۔ ان کی موسیقی کے اب پاکستان سے باہر، خاص طور پر بنگلہ دیش اور بھارت میں بہت بڑے سامعین موجود ہیں۔ عاطف اسلم کے نزدیک موسیقی کا مطلب صرف شہرت اور کامیابی نہیں ہے۔ یہ تخلیق کرنے، اپنے آپ کو دریافت کرنے اور ان لوگوں سے جڑے رہنے کا نام ہے جنہوں نے ان کا ساتھ دیا۔
