بلوچستان کے ضلع بارکھان میں منگل کی شب ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب مسلح افراد نے لورالائی-ڈیرہ غازی خان ہائی وے پر ایک مسافر بردار بس کو روک کر سات افراد کو زبردستی اتار کر قتل کر دیا۔ یہ واقعہ بظاہر پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔
عینی شاہدین اور زندہ بچ جانے والے لوگوں کے مطابق، تقریباً تین درجن مسلح افراد نے سڑک کو بلاک کر کے مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کیے۔ جن مسافروں کے پتہ پنجاب کا تھا، انہیں علیحدہ کر کے قریبی پہاڑی علاقے میں لے جا کر قتل کر دیا گیا۔
مقتولین میں 65 سالہ محمد عاشق اور ان کے برادر نسبتی شوکت علی بھی شامل تھے، جو بارکھان میں ایک عزیز کے انتقال پر تعزیت کے لیے آئے تھے۔ ان کے بھانجے اسد عباس نے بتایا کہ وہ بس کے ذریعے واپس شیخوپورہ جا رہے تھے، جبکہ دیگر خاندان کے افراد نے اسی دن صبح ٹرین کا سفر اختیار کیا تھا۔
واقعے کے ایک زندہ بچ جانے والے، ذیشان مصطفیٰ، نے بتایا کہ کس طرح مسلح افراد نے ان کا شناختی کارڈ واپس کر دیا، شاید اس کے انگریزی میں ہونے کی وجہ سے، لیکن ان کے بھائی عدنان مصطفیٰ کو، جن کے پاس کارڈ نہیں تھا، لے جا کر قتل کر دیا۔
اس بربریت کی مذمت کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم کیا ہے، اور حملہ آوروں کو امن و انسانیت کے دشمن قرار دیا ہے۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بھی اس وحشیانہ حملے کی مذمت کی ہے اور سیکیورٹی فورسز نے مجرموں کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔
یہ واقعہ گزشتہ اگست میں پیش آنے والے ایک حملے کی یاد دلاتا ہے، جب پنجاب کے 23 افراد کو اسی طرح کے حالات میں قتل کر دیا گیا تھا۔ حالیہ کشیدگی نے علاقے میں بین الصوبائی مسافروں کی حفاظت کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
خاندانوں کے غم میں مبتلا ہونے کے ساتھ، مقتولین کی لاشیں پنجاب-بلوچستان سرحد پر حکام کے حوالے کی گئیں۔ سیکیورٹی آپریشن جاری ہیں تاکہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے اور علاقے میں مزید تشدد کو روکا جا سکے۔
