ڈھاکہ: بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق چٹاگانگ ڈویژن کی انڈر 18 کرکٹ ٹیم کے رکن اور نوجوان تیز گیند باز مہدی حسن ہریدوئے، جو خون کے کینسر میں مبتلا تھے، بہتر طبی علاج کے لیے ڈھاکہ منتقل کیے جانے کے دوران ایمبولینس میں انتقال کر گئے۔
علاج کے لیے ڈھاکہ منتقلی کے دوران جان کا ضیاع
رپورٹس کے مطابق ہریدوئے کو خصوصی طبی علاج کے لیے دارالحکومت ڈھاکہ لے جایا جا رہا تھا، تاہم وہ ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی راستے میں دم توڑ گئے۔ انہیں چٹاگانگ کے جونیئر کرکٹ حلقوں میں ایک ہونہار ابھرتے ہوئے کھلاڑی کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔ بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز ہریدوئے کی اس المناک موت نے مقامی کرکٹ برادری میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑا دی ہے۔
بی سی بی اور وزارت کھیل کی مالی معاونت
ذرائع کے مطابق بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اور وزارت برائے امورِ نوجوانان و کھیل نے رواں سال جولائی میں ان کے علاج کے لیے علیحدہ علیحدہ طور پر پانچ پانچ لاکھ ٹکا کی مالی معاونت فراہم کی تھی۔ تاہم تمام طبی کوششوں کے باوجود نوجوان کھلاڑی کو بچایا نہ جا سکا۔
بی سی بی کا اظہارِ تعزیت
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے نوجوان کرکٹر کی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ بورڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہریدوئے کی وفات کرکٹ فیملی کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
- مہدی حسن ہریدوئے چٹاگانگ ڈویژن انڈر 18 ٹیم کے رکن تھے۔
- وہ بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز تھے اور ابھرتے ہوئے ہونہار کھلاڑی تصور کیے جاتے تھے۔
- بی سی بی اور وزارت کھیل نے علاج کے لیے پانچ پانچ لاکھ ٹکا فراہم کیے تھے۔
- ڈھاکہ منتقلی کے دوران راستے میں ایمبولینس میں انتقال کر گئے۔
