اسلام آباد میں مقامی حکومتی انتخابات میں تاخیر پر سماعت، احتجاجی نوٹس جاری
اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے منگل کے روز کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ حکومت الیکشن کمیشن آف پاکستان اور مقامی حکومتوں کے نظام دونوں کو نظرانداز کر رہی ہے۔
انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں مقامی حکومتی انتخابات میں تاخیر کے معاملے کی سماعت کے دوران کہی۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ بدقسمتی سے موجودہ حکومت میں الیکشن کمیشن اور مقامی حکومتوں کے نظام کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور کمیشن کو احتجاجی نوٹس جاری کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
پانچ سال سے معطل مقامی حکومت
سماعت کے دوران راجہ نے کہا کہ اسلام آباد فروری 2021 سے مقامی حکومت کے بغیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عرصے میں دو حکومتیں آئیں، جن میں ایک نگراں حکومت بھی شامل تھی، اور دونوں نے مقامی حکومتی انتخابات کے حوالے سے مثبت ردعمل ظاہر کیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے پہلے اسلام آباد میں مقامی حکومتی انتخابات 15 فروری کو کرانے کا اعلان کیا تھا، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے نئی قانون سازی لانے کے فیصلے کے بعد ان انتخابات کو ملتوی کر دیا گیا۔
وزیر داخلہ کو ذاتی حاضری سے استثنیٰ
سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو ذاتی حاضری سے استثنیٰ دے دیا۔ وزیر داخلہ کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے، جبکہ سیکرٹری داخلہ نے کارروائی میں شرکت کرتے ہوئے بتایا کہ محسن نقوی علیل ہیں اور پیش ہونے سے قاصر ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے نقوی کو ایک دن کے لیے استثنیٰ دے دیا۔ الیکشن کمیشن نے پچھلی سماعت کے دوران وزیر داخلہ کو ان کی ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔
یونین کونسلوں کے ناموں پر تحفظات
کارروائی کے دوران بینچ نے کہا کہ اسلام آباد مقامی حکومتی انتخابات سے متعلق ڈرافٹ میں یونین کونسلوں کے نام شامل ہیں، جو متعلقہ محکمہ کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ بینچ نے نوٹ کیا کہ حدود بندی اور یونین کونسلوں سے متعلق معاملات الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
کمیشن نے یہ بھی نوٹ کیا کہ یونین کونسلوں کے حوالے سے نوٹیفکیشن ضروری تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔ الیکشن کمیشن نے ٹاؤنز اور یونین کونسلوں کی تعداد مانگی تھی، لیکن اس کی بجائے ان کے نام شامل کر دیے گئے۔ کمیشن نے یہ بھی نشاندہی کی کہ یونین کونسلوں کی تعداد 125 سے بڑھا کر 130 کر دی گئی ہے، جبکہ وارڈز کے بارے میں غیر ضروری تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
احتجاجی نوٹس پر معذرت اور کوآرڈینیشن کمیٹی کا قیام
سیکرٹری داخلہ نے کمیشن سے احتجاجی نوٹس پر معذرت کی اور کہا کہ اسلام آباد مقامی حکومتی انتخابات سے متعلق ڈرافٹ نوٹیفکیشن وفاقی کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔
راجہ نے الیکشن کمیشن اور اسلام آباد انتظامیہ کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے ایک کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ یہ کمیٹی اسلام آباد کے چیف کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ہوگی، جس میں الیکشن کمیشن کی نمائندگی بھی شامل ہوگی۔
