پیرس: فرانس کے نامور ریاضی دان اور فیلڈز میڈل یافتہ سیڈرک ویلا نی نے اپنے پی ایچ ڈی طلبہ کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ تحقیقی کام کے دوران تخلیقی مصنوعی ذہانت کے اوزار “ہرگز استعمال نہ کریں”، کیونکہ ان کے مطابق سائنسی تحقیق میں “منزل سے زیادہ راستہ” اہمیت رکھتا ہے۔
سابق فرانسیسی رکن پارلیمنٹ ویلا نی نے منگل کو ریڈیو کلاسیک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے ایک ڈاکٹریٹ طالب علم کو واضح طور پر ہدایت دی ہے کہ تحقیق کے دوران یہ تخلیقی اوزار استعمال نہ کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “تعلیم کے دوران سخت محنت کر کے اپنے ذہن اور دماغ کو ڈھالنا ضروری ہے، اور یہی کسی بھی شعبے کی خوبصورتی ہے۔”
تحقیق میں راستے کی اہمیت
ویلا نی نے زور دیا کہ “تحقیق کا وقت، حل کی تصدیق کا وقت، سمجھ بوجھ کا وقت — سائنس اور خاص طور پر ریاضی میں راستہ خود نتیجے سے بھی زیادہ اہم ہے۔”
انہوں نے کہا کہ “میں جان بوجھ کر الٹی سمت میں چلتے ہوئے یہ کہہ رہا ہوں کہ خوش رہنے اور اچھا محسوس کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کسی ایسی چیز پر وقت اور محنت صرف کریں جو آپ کے دل کے قریب ہو۔ جتنے زیادہ وقت اور محنت سے آپ کسی مسئلے کو حل کریں گے، اتنا ہی زیادہ آپ کو فخر اور خوشی محسوس ہوگی۔”
واضح رہے کہ ویلا نی کو 2010 میں فیلڈز میڈل سے نوازا گیا تھا، جو ریاضی کے شعبے میں نوبل انعام کے مساوی سمجھا جاتا ہے۔
مسائل کے ختم ہونے کا خطرہ
انہوں نے ریاضی کے مسائل کے “خشک ہونے” کے خطرے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ دن قبل اوپن اے آئی نے نیویئر اسٹوکس مساوات کے نام سے مشہور ایک اہم مسئلے کو حل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
ویلا نی نے کہا کہ “ریاضی میں ترقی کے لیے تین بنیادی اجزا درکار ہیں: خیالات، طلبہ اور مسائل۔ لیکن اب ہمارے پاس ایسے اوزار آ گئے ہیں جو اتنے مؤثر ہیں کہ مسائل کے خشک ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔”
فیلڈز میڈل یافتہ ریاضی دانوں کا مشترکہ بیان
گیارہ ستمبر کو ویلا نی نے تقریباً بیس دیگر فیلڈز میڈل یافتہ ریاضی دانوں کے ہمراہ فرانسیسی اخبار “لے موند” میں ایک مشترکہ مضمون شائع کیا، جس میں ریاضی کی تحقیق پر مصنوعی ذہانت کے ممکنہ “تباہ کن اثرات” کے بارے میں خبردار کیا گیا۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ “ہم ریاضی دانوں کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ہوشیار رہیں، ہم اپنے پیشے میں اہم چیزوں پر غور کرنے کے لیے وقت نکالیں، اور نوجوان ریاضی دانوں کی ایک گمشدہ نسل کے خطرے سے بچیں جو پوری انسانیت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔”
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے خطرات کے بارے میں سائنسی اور سماجی حلقوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
